تحقیقِ عارفانہ — Page 631
۶۳۱ قریہ ہیں اسی طرح مکائِدُ الأَرضِ میں ارض کا استعمال بھی مجاز مرسل کے طور پر ہے اور مر او مکائِدُ الأَرْضِ سے اہل ارض کے قریب ہیں۔پھر قرآن شریف میں آیا ہے۔(الدَّخان :۳۰) فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ - کہ ان پر آسمان وزمین نہ روئے۔مراد اس سے یہ ہے کہ انہیں عذاب دیا جانے پر نہ ان پر اہل سماء روئے نہ اہل ارض۔بلکہ وہ یہ سمجھے چلو خس کم جہاں پاک دیکھئے اس آیت میں آسمان وزمین کے رونے سے مراد اہل سماء واہل ارض کا رونا ہے۔اور اس آیت میں سماء وارض استعمال کر کے مجاز موسل کے طور پر ان سے آسمان و زمین کے رہنے والے مراد ہیں۔قند ہر۔: - وَتَنزِلَ السَّكِينَةُ فِي قُلوبهم - (خطبه الهامیه صفحه ۸۳ طبع اول) اس پر اعتراض کیا ہے۔تنزل کے بعد علی چاہیے۔“ (حرف محرمانه صفحه ۴۰۷) برق صاحب نے تنزل کا لفظ غلط لکھا ہے یہ دراصل تنزل ہے۔برق صاحب کا اعتراض بالکل لغو ہے کیونکہ "سكينة" (اطمینان و تسلی) کے جب کسی شخص پر نازل ہونے کا ذکر ہو تو اس صورت میں تو بے شک تنزل کے بعد علی آنا چاہیے۔جیسے قرآن شریف میں ہے۔فَأَنْزَلَ اللهُ سَكِينَةَ عَلَيْهِ ( التويم :۴۰)۔اس پر سکینت اتاری لیکن جب دل میں سکینت اترنے کا ذکر ہو تو تنزل کے بعد فی کا آنا ہی ضروری ہے اور اس جگہ علیٰ کا استعمال غلط ہو گا۔کاش برق صاحب قرآن مجید ہی دیکھ لیتے جس میں صاف یہ آیت موجود ہے۔