تحقیقِ عارفانہ — Page 616
717 کہ بسنے والے تباہ ہو گئے۔“ (حرف محرمانه صفحه ۳۹۵) برق صاحب نے اس جگہ دراصل خود ہی اپنے اعتراض کا جواب مہیا کر دیا ہے۔ان کے نزدیک بستی کی ہلاکت سے مراد اہل بستی کی ہلاکت ہوتی ہے نہ کہ اینٹوں اور مکان کا فوت ہونا۔جب یہ امر برق صاحب کو مسلم ہے تو یہ انہیں کس بے وقوف نے بتایا ہے کہ حضرت مرزا صاحب یا احمدی هلك المقام سے اینٹ پتھروں کا فوت ہو جانا مراد لیتے ہیں۔خدا کے بندے ! اس الہام میں بھی تو مقام سے مراد اہل مقام ہی ہیں۔پس جس طرح قرآن مجید کی آنت میں وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ نُهْلِكَ قَرْيَةً (بنی اسرائیل : ۱۷) میں قریہ کی ہلاکت سے مراد اینٹ پتھروں کا فوت ہو جاتا نہیں بلکہ اہل قریہ کا تباہ ہو جانا ہے۔اسی طرح اس الہام میں مقام کی ہلاکت سے مراد اہل مقام کی ہلاکت ہے۔ظرف بول کر مظروف مراد لینا ہر زبان کا محاورہ ہے۔اور لفظ کا ایسا استعمال مجاز مرسل کہلاتا ہے جو کلام میں حسن پیدا کرتا ہے۔خلاصہ کلام خلاصہ کلام کے اس الہام کا مطلب یہ ہے۔اے مسیح موعود اگر تیری عزت منظور نہ ہوتی تو ہم قادیان کے رہنے والوں کو تباہ کر دیتے۔کیونکہ قادیان میں بڑے بڑے خبیث النفس موجود تھے جو سچائی کے دشمن اور تاریکی سے پیار رکھنے والے تھے۔ایسے لوگوں پر ان میں مامور الہی کی موجودگی کی برکت سے عمومی تباہی نہیں آتی کیونکہ صلى الله خدا کے مامورین رحمت ہوتے ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ رسول کریم ﷺ کے متعلق فرماتا ہے :- وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَدِ بَهُمْ وَأَنت فيهم (الانفال آیت : ۳۴)