تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 615 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 615

۶۱۵ عَفَتِ الدِّيَارُ مَحِلُّهَا وَمُقَامُهَا۔یعنی دیار مٹ گئے ان کی عارضی رہائش گا ہیں بھی مٹ گئیں اور مستقل رہائش گا ہیں یعنی بستیاں مٹ گئیں۔اس شعر میں شاعر نے عارضی رہائش گاہ کے لئے محل کا لفظ استعمال کیا ہے اور مستقل رہائش گاہ کے لئے مقام کا لفظ استعمال کیا ہے۔اگر برق صاحب عربی لغت کی کتاب ”المنجد “ ہی اٹھا کر دیکھ لیتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ اس میں اقام کے معنی جس سے مقام کا لفظ اسم مفعول ہے یہ لکھتے ہیں :- اقام بالمكان دام فِيهِ و اِتَّخَذَهُ وَطَناً (المنجد : ق) یعنی اقام بالمکان کے معنی ہیں۔اس مکان میں ہمیشہ رہا اور اے اپنا وطن بنا اس لحاظ سے مقام کے معنی ایسی جگہ کے ہوئے جو مستقل رہائش گاہ ہو چنانچہ اسی لغت میں المقام کے معنی الإقامة و موضعها وزمانُها لکھے ہیں۔یعنی مقام کے معنی بطور مصدر میمی الا قامہ بھی ہیں۔جس کے معنی مستقل قیام کرنا کے ہوتے ہیں۔اور ایسی رہائش کی جگہ کے بھی ہیں اور ایسی رہائش کے زمانہ کے بھی ہیں۔پس مقام کے معنی ہوئے دائمی اور مستقل رہائش گاہ۔تیسرے اعتراض کا جواب برق صاحب نے لکھا ہے کہ :- مقام کے لئے ہلاکت کا لفظ استعمال نہیں ہو سکتا۔کیونکہ انسان جانور اور پرندے ہلاک ہوتے ہیں۔نہ کہ پھر دریا صحر اور درخت یہ کہتے ہیں کہ بستی ہلاک ہو گئی تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس گاؤں کی اینٹیں اور مکان فوت ہو گئے بلکہ یہ