تحقیقِ عارفانہ — Page 595
۵۹۵ " سے “ کو ” بہت سی “ پڑھیے اس جگہ کامیابی ہوئی ہے“ میں ”ہوئی ہے “ کا لفظ بھی اس بات کے لئے قرینہ ہے کہ "ہی ہی پڑھا جانا چاہیے۔اور یہ اسبات کے لئے بھی قرینہ ہے کہ "کامیابی کا لفظ مونث ہی استعمال ہوا ہے۔رہا لفظ وباء " تو وہ اہل علم میں مختلف فیہ ہے جیسا کہ۔قلم ، راہ ، ہوش ، فکر مختلف فیہ ہیں۔لکھتے ہیں۔برق صاحب اسنئے :۔فکر ہوتا ہے فکر ہوتی ہے۔یوں بھی لکھتے ہیں یوں بھی وو (نوح ناروی) ۱۰ : برق صاحب حضرت اقدس کے ایک فقرہ کو ادھورا نقل کرتے ہیں :- کا مفصل حال معلوم کرنا طول بلا طائل۔“ (ازالہ اوہام صفحہ ۵۷۶) برق صاحب کا اس پر اعتراض یہ ہے۔کہ عربی مرکب بلا طائل“ ہے۔لا طائل کو بغیر طائل یا سوائے طائل میں بدل نہیں سکتے۔(حرف محرمانہ صفحہ ۳۸۳) 666-9 الجواب عربی مرکب دراصل ”لا طَائِلَ تَحْتَ “ ہے۔”طول لا طائل“ عربی مرکب نہیں ہے۔لہذ اطول بلا طائل فارسی یا اردو ترکیب ہے اور یہ استعمال جائز ہے۔ہر گز محل اعتراض نہیں۔حضرت اقدس نے طول بلا طائل استعمال کیا ہے طول بغیر طائل یا طول سوائے طائل استعمال نہیں کیا۔اور صرف طول لا طائل کہنا درست نہ ہو تا۔جب تک اسکے ساتھ نَحنہ کا استعمال نہ ہو۔تا اس جگہ "بلا" کی "ب" سے "تحنہ " کا مضمون بیان کیا گیا ہے۔اور عرفی کے محاورہ کو اردو کا رنگ دے دیا گیا ہے۔پس جو امر خوفی اور کمال پر دال ہے۔اس میں بھی برق صاحب کیڑے نکال رہے ہیں۔و كم من عائب قولاً صحيحا - وآفته من الفهم السقيم 11 :۔اس نمبر کے فقرہ میں تحقیقاتوں" کے لفظ کے استعمال پر یوں معترض ہیں کہ :