تحقیقِ عارفانہ — Page 594
۵۹۴ الجواب آج کل کے اسلوب میں گو جوشوں کی جگہ جوش استعمال ہوتا ہے۔مگر پرانا اسلوب اپنی جگہ درست تھا۔اور فصیح سمجھا جاتا تھا ہم اس سے پہلے سر سید احمد خان کے قول سے لفظ ”استعمالوں کی مثال دے چکے ہیں۔آج کل صرف لفظ استعمال" مستعمل ہے۔لیکن پرانے اسلوب میں استعمالوں غیر فصیح نہیں سمجھا جاتا تھا۔تبھی تو سر سید احمد خان نے جوار دو کے عناصر خمسہ میں سے تھے استعمالوں“ کا لفظ استعمال کیا۔: -برق صاحب نے ایک اقتباس دیا ہے :- اب جو یہودیت کی صفتوں کا عام وبا پھیل گیا ہے اور۔۔۔۔نصاری کو اپنے مشرکانہ خیالات میں بہت سی کامیابی ہوئی ہے۔“ (ازالہ اوہام صفحہ ۶۵۰) اس پر برق صاحب معترض ہیں۔اردو میں صفت عموما مدح خیر اور خوبی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔اس لئے یہاں قبائح چاہیے نیز وباو کا میابی “ مونث ہیں۔الجواب (حرف محرمانه صفحه ۳۸۲) صفت کا لفظ در حقیقت حالت “ کے معنوں میں آتا ہے۔برق صاحب کا یہ کہنا کہ عموماً مدح میں استعمال ہوتا ہے۔یہ بتاتا ہے کہ عمومی استعمال اس کا مدح میں ہوتا ہے۔لیکن کسی خاص محل پر جب کہ سیاق کلام وضاحت کر رہا ہو۔قبائح میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔جیسا کہ اس جگہ استعمال ہوا ہے۔کیونکہ اس جگہ یہودیت کی صفتوں کو عام وہا سے تعبیر کیا گیا ہے عام وبا کا لفظ اس جگہ صفتوں کے قبائح ہونے کے لئے قطعی قرینہ ہے۔گو یہ عرف عام کے مقابلہ میں مجازی استعمال ہوا ہے کیونکہ لغت میں صفت کا لفظ حالت کے معنوں میں ہی استعمال ہوتا ہے خواہ حالت اچھی ہو۔یا بر کی۔لفظ "بیت