تحقیقِ عارفانہ — Page 564
نمبر ۳:- ۵۶۴ نیز باعث ہمیشہ کے سوچ بچار اور مشق اور مغززنی اور استعمال قوائد مقررہ صناعت منطق کے بہت سے حقائق علمیہ اور دلائل یقینیہ اس کو مستحضر ہو گئے ہیں۔“ (بحوالہ براہین احمدیہ حصہ اول صفحہ ۱۴۱ طبع اول) مولانا ابو الکلام آزاد ، علامہ نیاز فتح پوری وغیرہ کی جناب برق صاحب نے خاص تعریف کی ہے۔اور دنیائے ادب و علم میں انہیں بلند مقام حاصل کرنے والا قرار دیا ہے۔اب ذرا مولانا ابو الکلام صاحب کا کلام ملاخطہ ہو :- نمبرا : ان اقوال سے معلوم ہوا کہ اس زمانہ میں حیلہ تراشیوں کی بنیاد پڑ چکی تھی۔یہ کتاب و سنت سے بعد وہ ہجر اور ترک بر امین و یقینیات شرعیه و تشبث به ظن و تخمین حت وتخرص و تلعب به ظلمات اوہام و ابو او قیاس غیر صالح وغیر موید بالوحی کے شجرہ الز قوم کے ابتدائی برگ دبار تھا۔“ ( تذکره مولانا ابو الکلام آزاد صفحه ۸۵ مرتبه فضل الدین احمد شائع کردہ کتاب محل لاہور) کیوں برق صاحب ابو الکلام کی اس عبارت کے خط کشیدہ الفاظ سے متعلق آپ کا کیا خیال ہے۔یہ وہی مولانا ابو الکلام آزاد ہیں جنہیں آپ سند کے طور پر پیش کرتے ہیں۔مولانا حالی اردو کے عناصر خمسہ میں شمار کئے گئے ہیں برق صاحب ان کی تحریر بھی ملاخطہ فرمائیں۔وہ پادری عماد الدین کو تریاق مسموم میں لکھتے ہیں :- شاید آپ نے اکل معاش مستلزم اكل معاد جان کر ارباب اکل معاش "