تحقیقِ عارفانہ — Page 524
۵۲۴ گویا برق صاحب موصوف یہ عبارت پیش کر کے ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ یہ الہامات لغو باتوں سے پاک نہیں۔یہ لغو بات ان کے نزدیک ان الہامات کا مہمل ہوتا ہے۔وہ الہامات یہ ہیں۔ا۔”خدا کی فیلنگ اور خدا کی مہر نے کتنا بڑا کام کیا۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۹۶) معمل کے معنی ہیں بے معنی مگر یہ الہام ہر گز بے معنی نہیں چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود خود اس الہام کے ترجمہ میں فرماتے ہیں۔خدا نے وقت کی ضرورت محسوس کی اور اس کے محسوس کرنے اور نبوت کی مر نے جس میں بعدت قوت کا فیضان ہے بڑا کام کیا یعنی تیرے مبعوث ہونے کے دو باعث ہیں۔خدا کا ضرورت کو محسوس کرنا اور آنحضرت ﷺ کی مہر نبوت کا فیضان << پھر اس الہام پر حاشیہ میں تحریر فرماتے ہیں۔وحی الہی کہ خدا کی فیلنگ اور مہر نے کتنا بڑا کام کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ خدا الله نے اس زمانہ میں محسوس کیا کہ یہ ایسا فاسد زمانہ آ گیا ہے جس میں ایک عظیم الشان مصلح کی ضرورت ہے اور خدا کی مہر نے یہ کام کیا کہ آنحضرت ﷺ کی پیروی کرنے والا اس درجہ کو پہنچا کہ ایک پہلو سے وہ امتی ہے اور ایک پہلو سے نبی کیونکہ اللہ جلشانہ نے آنحضرت ﷺ کو صاحب خاتم، بنایا یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہر گز نہیں دی گئی اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا۔یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔" اس تشریح سے ظاہر ہے کہ یہ الہام معمل نہیں بلکہ ایک عظیم الہ (حقیقۃ الوحی حاشیہ صفحہ ۹۶،۹۷) صلى الله حقیقت پر مشتمل ہے جس سے آنحضرت مے کی تمام انبیاء میں امتیازی شان ظاہر