تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 513 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 513

۵۱۳ ٹھہرے۔اور اس عاجز پر انہوں نے خود آپ ہی یہ غلط رائے جو الہام کے بارے میں تھی مدعیانہ طور پر ظاہر کر دی۔اس لئے بہت رنج گذرا۔ہر چند معمولی طور پر سمجھایا گیا۔کچھ اثر مترتب نہ ہوا۔آخر توجہ الی اللہ تک نوبت پہنچی۔اور ان کو قبل از ظهور پیشگوئی بتلایا گیا کہ خداوند کی حضرت میں دعا کی جائے گی۔کچھ تعجب نہیں کہ وہ دعا بیائے اجابت پہنچ کر کوئی ایسی پیشگوئی خداوند ظاہر فرمائے جس کو تم چشم خود دیکھ جاؤ۔سو اس رات اس مطلب کے لئے قادر مطلق کی جناب میں دعا کی گئی علی الصباح بنظر کشفی ایک خط دکھایا گیا۔جو ایک شخص نے ڈاک خانہ میں بھیجا ہے۔اس مخط پر انگریزی زبان میں لکھا ہوا ہے آئی ایم کو ر لر اور عربی میں لکھا ہے ھذا شاهد نزاغ۔اور یہی الہام حکایت عن الكاتب القاء کیا گیا۔اور پھر وہ حالت جاتی رہی۔چونکہ یہ خاکسار انگریزی زبان سے کچھ واقفیت نہیں رکھتا۔اس جہت سے پہلے علی الصباح میاں نور احمد صاحب کو اس کشف اور الہام کی اطلاع دے کر اور اس آنے والے خط سے مطلع کر کے اور پھر اسی وقت ایک انگریزی خوان سے اس انگریزی فقرہ کے معنے دریافت کئے گئے۔تو معلوم ہوا کہ اس کے یہ معنی ہیں۔کہ میں جھگڑنے والا ہوں۔سو اس مختصر سے فقرہ سے یہ معلوم ہو گیا کہ کسی جھگڑے کے متعلق کوئی محط آنے والا ہے۔اور ھذا شاهد نزاغ۔اور جو کاتب کی طرف سے دوسرا فقرہ لکھا ہوا دیکھا تھا۔اس کے یہ معنے کھلے کہ کاتب مخط نے کسی مقدمے کی شہادت کے بارہ میں وہ خط لکھا ہے اس دن حافظ نور احمد صاحب باعث بارش باران امر تسر جانے سے روکے گئے۔اور در حقیقت ایک سادی سبب سے ان کا روکا جانا بھی قبولیت دعا کی ایک خبر تھی۔تاوہ جب کہ ان کے لئے خدا تعالیٰ سے دعا کی درخواست کی گئی تھی پیشگوئی کے ظہور کو بچشم خود دیکھ لیں۔غرض اس تمام پیشگوئی کا مفہوم سنادیا گیا۔شام کو ان کے روبرو پادری رجب علی صاحب مهستم و مالک مطبع سفیر ہند کا ایک خط بذریعہ رجسٹری امر تسر سے آیا۔جس سے معلوم ہوا کہ پادری صاحب