تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 450 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 450

۴۵۰ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنی ایک رؤیا یوں بیان فرمائی ہے :- خدا تعالیٰ کے ملائک پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں۔اور وہ درخت نہایت بد شکل اور سیاہ رنگ اور خوفناک اور چھوٹے قد کے ہیں۔میں نے بعض لگا نیوالوں سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے۔میرے پر یہ امر مشتبہ رہا کہ اس نے یہ کہا کہ آئندہ جاڑے میں یہ مرض بہت پھیلے گا یا یہ کہا کہ اس کے بعد کے جاڑے میں پھیلے گا۔لیکن نہایت خوفناک نمونہ تھا جو میں نے دیکھا۔اشتهار طاعون مور محه ۲۶ فروری ۱۸۹۱ء مشموله ایام الصلح صفحه (۱۲) یہ پیشگوئی آپ نے مذکورہ اشتہار کے ذریعہ شائع فرمائی۔اس کے چار سال بعد آپ اپنی کتاب " وافع البلاء " میں تحریر فرماتے ہیں :- چار سال ہوئے کہ میں نے ایک پیشگوئی شائع کی تھی کہ پنجاب میں سخت طاعون آنے والی ہے اور میں نے اس ملک میں طاعون کے سیاہ درخت دیکھے ہیں جو ہر ایک شہر اور گاؤں میں لگائے گئے ہیں۔اگر لوگ تو بہ کریں تو یہ مرض دو جاڑہ سے بڑھ نہیں سکتی۔خدا اسکو دفع کر دیگا مگر جائے تو بہ کے مجھ کو گالیاں دی گئیں اور سخت بد زبانی کے اشتہار شائع کئے گئے جس کا نتیجہ طاعون کی یہ حالت ہے جواب دیکھ رہے ہو۔خدا کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوئی اس کی عبارت یہ ہے : - إِنَّ اللَّهَ لَا يُغيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حتى يُغيِّرُوا مَا يَا نُفُسِهِمْ إِنَّهُ أَوَى الْقَرْيَةِ یعنی خدا نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ اس بلائے طاعون کو ہر گز دور نہیں کرے گا۔جینک لوگ ان خیالات کو دور نہ کرلیں جو ان کے دلوں میں ہیں۔یعنی جب تک وہ خدا کے مامور اور رسول کو مان نہ لیں تب تک طاعون دور نہیں ہو گی۔اور وہ قادر خدا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا۔تا تم سمجھو کہ قادیان اس لئے محفوظ رکھی گئی کہ وہ خدا کار سول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔اب