تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 32 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 32

۳۲ " قاعدہ وضع کرنے کی جرات نہ ہوتی۔جس کو قرآن مجید کی سورۃ فاتحہ کی پہلی آیت کا مرکب اضافی رب العالمین ہی رو کرنے کے لئے برہان قاطع کا حکم رکھتا ہے۔دیکھئے رب العالمین“ مضاف الیہ کا موجد ہے۔پس جناب برق صاحب کا یہ قاعدہ ان دہریوں اور اشتراکیوں کو تو فائدہ دے سکتا ہے۔جو خدا تعالی کو دنیا کے خیالات کی تخلیق قرار دیتے ہیں۔لیکن ایک مذہبی آدمی کو کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔جو رب کو خالق اور العالمین کو اس کی مخلوق سمجھتا ہے۔کیا جناب برق صاحب بھی اندر سے کہیں دھر یہ تو نہیں جو مسلمانوں کے لباس میں ہم سے یہ قاعدہ منوانا چاہتے ہیں کہ کسی زبان میں بھی مضاف موجد نہیں ہو سکتا بلکہ مضاف الیہ ہی موجد ہو سکتا ہے۔پھر جناب برق صاحب قرآن مجید میں ہی مزید غور کرتے تو انہیں بدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ کی مثال مل جاتی جس میں بدلع ( موجد ) کو مضاف اور السموات والارض کو جو مخلوق ہیں مضاف الیہ قرار دیا گیا ہے۔پھر تیسری مثال اللهُ عَالِقُ كُلّ شیعی کی قرآن مجید میں موجود تھی۔اس میں خالق ( موجد ) مضاف ہے اور کل شئی (ایجاد شدہ ہر چیز ) مضاف الیہ ہے۔پس ہمیں دنیا کی کسی اور زبان سے مثالیں تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔بلکہ عربی زبان سے بھی مثالیں تلاش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ہم نے ان کی دو قرآنی مثالوں کے بالمقابل تین قرآنی مثالیں ایسی پیش کر دی ہیں۔جن سے جناب برق صاحب کے مصنوعی قاعدہ کی تغلیط و تردید ہو جاتی ہے۔اگر در خانہ کس است ہمیں حرف بس است“۔جب ہماری تین مثالوں سے ثابت ہو گیا کہ مضاف بھی مضاف الیہ کا موجد ہو سکتا ہے۔تو جماعت احمدیہ اور مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی کی تفسیه ت قرار پائی کہ خاتم النبین کی اضافت خاتم کو السنسین کام بہ در ان م دران