تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 31 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 31

۳۱ خالق اور موجد ہو اس لئے خاتم الانبیاء سے ایسی مُہر مراد لینا جو انبیاء تیار کرتی ہو نہ صرف عربی لغات کی رُو سے غلط بلکہ ہر زبان کے قواعد کے خلاف ہے۔“ لیکن خاتم الانبیاء کی احمدی تفسیر سے ایک ایسا مرکب اضافی وجود میں آجاتا ہے جس کی کوئی نظیر دنیا کی کسی زبان مین نہیں مل سکتی۔(حرف محرمانہ صفحہ ۲۳،۲۲) الجواب کتنا بداد عومی ہے جو جناب برق صاحب نے اس عبارت میں کیا ہے اور کتنا بڑا بول ہے جو انہوں نے بولا ہے۔حالانکہ ان کا یہ قاعدہ کہ مضاف مضاف الیہ کا موجد نہیں ہو سکتا۔پر کاہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتا۔انہوں نے تین مثالوں سے جن میں دو حملیکی اضافت کی اور تیسری بیانی اضافت کی ہے۔یہ قاعدہ ایجاد کر لیا ہے کہ مضاف الیہ تو مضاف کا موجد ہو سکتا ہے۔مگر مضاف مضاف الیہ کا موجد نہیں ہو سکتا بھلا کبھی تین غیر متعلق مثالوں سے بھی کوئی قاعدہ ایجاد ہوا کرتا ہے۔قاعدے کا استنباط کرنے کے لئے تو تمام امثلہ کو یا اکثر امثلہ کو مد نظر رکھنا پڑتا ہے۔چنانچہ پھر بھی اکثری قائد : کے خلاف مستثنیات نکل ہی آتی ہیں۔کیا جناب برقی صاحب قواعد کے استنباط کے اس طریق سے واقف نہیں ؟ اگر یہی بات ہے تو ان کے طالب علم بھی قابل رحم ہیں جن کا استاد قواعد وضع کرنے میں اتنا جلد باز اور غیر محتاط ہے۔جناب برق صاحب کو اپنے غلط قاعدہ کی ایجاد کے لئے قرآن مجید سے صرف دو مثالیں ارض اللہ اور عبد اللہ ملی ہیں۔حالانکہ قرآن مجید میں مرکب اضافی کی اور بہت سی مثالیں بھی موجود ہیں۔جناب برق صاحب کو چاہیئے تھا کہ اگر وہ کوئی عمومی قاعدہ وضع کرنا چاہتے تھے تو ان ساری مثالوں کو تو سامنے رکھ لیتے جو کم از کم قرآن مجید میں وارد ہیں۔میر ایقین ہے کہ اگر وہ ایسا کرتے تو انہیں احمدی تفسیر کے رد کے لئے ایسا