تحقیقِ عارفانہ — Page 415
۴۱۵ قائم رہا ہوں اور اب بھی یہی عقیدہ رکھتا ہوں۔تو انہوں نے یہ جواب کیوں نہ دیا کہ مجھے قسم کھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔کیونکہ میرا خود نوشت رساله خلاصه مباحثه ا موجود ہے جو اس بات پر میری طرف سے تحریری شہادت ہے کہ میں نے اپنے عقیدہ 66 سے رجوع نہیں کیا۔بلکہ میں دوسرے عیسائیوں کی طرح عقیدہ اجیت اور الوہیت مسیح کا قائل رہا ہوں۔اگر مسٹر عبد اللہ آتھم اس رسالہ کو وجہ شہادت کے طور پر پیش کرتے تو یہ ان کی طرف سے دعوت مباہلہ اور قسم کھانے کی دعوت مقابلہ میں نہ آنے کے لئے ایک کافی جواب ہوتا۔مگر انہوں نے تو یہ امر بطور شہادت پیش نہ کیا۔بلکہ یہ عذر کیا کہ قسم کھانا ہمارے مذہب میں جائز نہیں۔جس کی حضرت اقدس نے پر زور تردید کی اور ثابت کیا کہ شہادت کے وقت عیسائی مذہب میں قسم کھانا جائز ہے کیونکہ خود مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل متی ۶۳ / ۲۷ کے مطابق قسم کھائی تھی۔رجوع کا اعتراف مسٹر عبد اللہ آتھم نے عیسائی اخبار ”نورافشاں“ ۲۱ ستمبر ۱۸۹۴ء میں حضرت اقدس کے ذکر میں لکھا ہے :- میں عام عیسائیوں کے عقید ہ ابیت والوہیت کے ساتھ متفق نہیں اور نہ ،، میں ان عیسائیوں سے متفق ہوں جنہوں نے آپ کے ساتھ یہودگی کی۔“ یہ الفاظ مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کی طرف سے دبی زبان میں اس بات کا اقرار ہیں کہ وہ پر انسٹنٹ عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث کے قائل نہیں رہے تھے اور نہ ان کی طرح حضرت عیسی علیہ السلام کو ابن اللہ اور اللہ مجسم مانتے تھے۔پس ان الفاظ میں تو انہوں نے ایک طرح سے عقیدہ تثلیث سے رجوع اور