تحقیقِ عارفانہ — Page 414
۴۱۴ محرمانہ“ میں انہوں نے اپنی کوئی ذاتی تحقیق پیش نہیں کی بلکہ دوسرے معاندین احمدیت کی نقل ہی کی ہے۔اور مولوی ثناء اللہ صاحب وغیرہ معاندین احمدیت کے اعتراضات فقط اپنے لفظوں میں ڈھال کر پیش کر دیئے ہیں۔لہذا جو جھوٹ دوسروں نے احمدیت کے خلاف بولا تھا اس کے دہرانے کے آپ بھی مجرم بن رہے ہیں۔اور آپ کی یہ کتاب "حرف محرمانہ کی جائے " حرف مجرمانہ " کہلانے کی مستحق ہے۔اپنی کتاب کے آخر میں برق صاحب نے جن کتابوں کے مطالعہ کرنے کا ذکر کیا ہے ان میں الهامات مرزا کا ذکر موجود نہیں اور جن کتابوں کے انہوں نے نام دیئے ہیں ان میں خلاصہ مباحثہ " کا کوئی ذکر نہیں۔مسٹر عبد اللہ آتھم تو پیشگوئی کی میعاد کے اندر سر گردان اور سراسیمہ ہو نیکی حالت میں تھے اور دن رات روتے رہتے تھے۔ان کی حالت نیم دیوانوں کے مشابہ تھی۔ان کی متخیلہ میں انہیں ایسے حملہ آور دکھائی دیتے تھے جن کا ذکر کرنے پر عیسائیوں نے انہیں عدالت میں حضرت مرزا صاحب کے خلاف نالش کرنے کے لئے کہا اور یہاں تک پیشکش کی کہ تم صرف کاغذ پر دستخط ہی کر دو۔مقدمہ ہم دائر کریں گے۔مگر وہ آمادہ نہ ہوئے۔بھلا اس سراسیمگی کی حالت میں مسٹر عبد اللہ آتھم کوئی ایسار سالہ بنام "خلاصۂ مباحث " کیسے لکھ سکتے تھے۔پس اگر ایسا کوئی رسالہ ان دنوں میں کسی عیسائی نے ان کے نام پر شائع کر دیا ہے (گو ایسا کوئی رسالہ ہماری نظر سے نہیں گزرا) تو یہ اس کی رو بہ بازی ہے۔ورنہ اگر مسٹر عبداللہ آتھم نے خود کوئی ایسا رسالہ تثلیث کے عقیدہ کے متعلق دلائل پر مشتمل لکھا ہوتا تو جب حضرت اقدس نے انہیں مباہلہ کی دعوت دی اور اس بات پر قسم کھانے کو کہا کہ میں نے الوہیت مسیح اور ان کے ابن اللہ ہونے کے متعلق عقیدہ سے رکوع نہیں کیا بلکہ پراٹسٹنٹ عیسائیوں کی طرح ہی الوہیت اور ابنیت کے عقیدہ پر