تحقیقِ عارفانہ — Page 409
۴۰۹ کاش! جناب برق صاحب اپنی کتاب پڑھنے والوں کے سامنے پہلی میعاد پیشگوئی کے گزر جانے کے بعد اس مقابلہ روحانیہ کی دعوت کا ذکر کر کے تصویر کا دوسرا رخ بھی پیش کر دیتے۔مگر انہوں نے مخالفین کے طوفان بد تمیزی کے متعلق باوجود (کوفت اٹھانے کا اظہار کرنے کے) ان کی نظم و نثر میں گالیوں کا درج کرنا تو ضروری سمجھ لیا مگر بعد کے روحانی مقابلہ میں مسٹر عبداللہ آتھم اور عیسائیوں کے عجز و شکست کا ذکر نہیں کیا۔اس سے ظاہر ہے کہ اس پیشگوئی پر اعتراض میں ان کی کارروائی محرمانہ نہیں بلکہ مجرمانہ ہے۔اور ان کی کتاب حرف محرمانہ کی بجائے حرف مجرمانہ کہلانے کی مستحق ہے کیونکہ وہ ایک محقق کے طور پر اس بحث میں حصہ نہیں لے رہے بلکہ معاندین کا شیوہ ہی اختیار کئے ہوئے ہیں۔حضرت اقدس مسٹر عبد اللہ اعظم کو اپنے ایک مخط میں لکھتے ہیں :- آپ نے میعاد پیشگوئی کے اندر اسلامی عظمت اور صداقت کا سخت اثر اپنے دل پر ڈالا اور اسی بنا پر پیشگوئی کے وقوع کا ہم و غم کمال درجہ پر آپ کے دل میں غالب ہؤا میں اللہ جلشانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ بالکل صحیح ہے۔اور خدا تعالیٰ کے مکالمہ سے مجھ کو یہ اطلاع ملی ہے اور اس پاک ذات نے مجھے یہ اطلاع دی ہے کہ جو انسان کے دل کے تصورات کو جانتا ہے اور اس کے پوشیدہ خیالات کو دیکھتا ہے۔اگر میں اس بیان میں حق پر نہیں تو خدا مجھ کو آپ سے پہلے موت دے۔پس اسی وجہ سے میں نے چاہا کہ آپ مجلس عام میں قسم موت کھاد ہیں۔اور ایسے طریق پر جو میں بیان کر چکا ہوں تا میرا اور آپ کا فیصلہ ہو جائے۔(دوسراحصہ اشتہار تین ہزار روپیه صفحه ۱۸۱۷) پیشگوئی پر اہم ترین اعتراض جناب برق صاحب کا اس پیشگوئی پر اہم ترین اعتراض یہ ہے کہ آپ اپنی