تحقیقِ عارفانہ — Page 407
۴۰۷ اس دعوت مباہلہ کے بعد مسٹر عبد اللہ آتھم مباہلہ کے لئے آمادہ نہ ہوئے تو اس کے بعد حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے مزید اتمام حجت کے لئے انہیں مؤکد بعذاب قسم کھانے کے لئے دو ہزار روپیہ کا انعامی اشتہار دیا اور قسم کے الفاظ لکھنے کے بعد آتھم صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے تحریر فرمایا :- ”حضرت یہ تو دو خداؤں کی لڑائی ہے۔اب وہی غالب ہو گا جو سچا خدا ہے۔جبکہ ہم کہتے ہیں کہ ہمارے خدا کی یہ ضرور قدرت ظاہر ہوگی کہ اس قسم والے برس میں ہم نہیں مریں گے لیکن اگر آتھم صاحب نے جھوٹی قسم کھالی تو ضرور فوت ہو جائیں گے تو جائے انصاف ہے کہ آتھم صاحب کے خدا پر کیا حادثہ نازل ہو گا کہ وہ ان کو چا نہیں سکے گا۔اور نجی ہونے سے استعفادید یگا۔غرض اب گریز کی کوئی وجہ نہیں یا تو مسیح کو قادر کہنا چھوڑ میں یا قسم کھالیں۔ہاں اگر عام مجلس میں اقرار کر دیں کہ ان کے مسیح ان اللہ کو ایک برس تک زندہ رکھنے کی قدرت نہیں مگر برس کے تیسرے حصے یا تین دن تک البتہ قدرت ہے اور اس مدت تک اپنے پرستار کو زندہ رکھ سکتا ہے تو ہم اس اقرار کے بعد چار مہینہ یا تین ہی دن تسلیم کر لیں گے۔“(اشتہار انعامی دو ہزار روپیه ۲۰/ ستمبر ۱۸۹۴ء مندرجه تبلیغ رسالت جلد سوم صفحه ۱۳۵-۱۳۶) اس متحدیانہ عبارت سے ظاہر ہے کہ دوسرے اشتہار کے وقت اس روحانی مقابلہ میں عبداللہ آتھم کا حضرت اقدس کی زندگی میں ایک سال کے اندر مرنااور حضرت اقدس کا ان کی زندگی میں وفات نہ پانا عبد اللہ آتھم کے قسم اٹھانے پر فیصلہ کی صورت ہو گی۔گویا مسٹر عبد اللہ آتھم کو حضرت اقدس کی زندگی میں مباہلہ کے بعد ایک سال کے اندر مرنے کے روحانی مقابلہ کی دعوت دی گئی تھی۔مسٹر عبد اللہ آتھم انعامی رقم ڈبل کیا جانے پر بھی قسم کے لئے آمادہ نہ ہوئے۔تو بعد ازاں آپ نے تین ہزار روپے کا انعامی اشتہار دیا اور اس میں لکھا کہ :-