تحقیقِ عارفانہ — Page 390
۳۹۰ اَنَّ رَسُولَ اللهِ قَالَ لَخَدِيجَةَ أَمَا شَعُرتِ انَّ اللَّهَ زَوَّجَنِي مريمَ ابنتَ عمران وَكُلْثُومَ أَختَ مُوسَى وَامْرَأَةَ فِرعَونَ قالت هنيًا لَكَ يَارَسُولَ اللَّهِ - ( تفسیر فتح البیان جلد کے صفحہ ۱۰۰ مطبوعہ مصر ) یعنی ابو امامہ سے مرفوعاً روائت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت خدیجہ سے فرمایا کیا تجھے معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ نے میرا نکاح حضرت عیسیٰ کی والدہ مریم بنت عمران اور موسیٰ کی بہن کلثوم اور فرعون کی بیوی کے ساتھ کر دیا ہے۔حضرت خدیجہ نے اس پر کہا یار سول اللہ آپ کو مبارک ہو۔آسمانی نکاح کی تعبیر اس حدیث نبوی میں زوجنی کا لفظ ہے اور حضرت مرزا صاحب کے الہام میں زَوَّجنا کا لفظ ہے۔یہ دونوں لفظ بصیفہ ماضی ہیں۔یہ دونوں نکاح باوجود آسمانی ہونے کے زمین پر و قوع میں نہیں آئے۔آنحضرت ﷺ کے یہ نکاح زمین پر اس لئے وقوع میں نہیں آسکتے تھے کہ یہ خواتین جن سے آپ کے نکاح ہوئے قبل ان نکاحوں کے وفات پاچکی تھیں اور حضرت مرزا صاحب کا یہ نکاح ظاہری طور پر زمین میں اس لئے وقوع میں نہ آیا کہ محمدی بیگم صاحبہ کا خاوند پائیدار توبہ کی وجہ سے وعیدی موت سے بچنے کی الہامی شرط سے فائدہ اٹھا کر موت سے چ چکا تھا۔البتہ آنحضرت ﷺ کے ان نکاحوں کی تعبیر یہ تھی کہ جن خواتین سے آپ کے نکاح ہوئے ان کے خاندان اور قو میں آپ پر ایمان لے آئیں گی چنانچہ ایسا ہی وقوع میں آیا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود کے اس آسانی نکاح کی تعبیریوں نکلی کہ محمدی بیگم صاحبہ کا خاندان بالخصوص انکی والدہ اور ہمشیرگان اور ان کے فرزند مرزا اسحاق بیگ صاحب وغیرہ حضرت مسیح موعود پر ایمان لے آئے۔یہ بھی خدا تعالٰی کا ایک طریق ہے کہ اگر کوئی پیشگوئی ظاہری الفاظ میں وقوع میں نہ آسکتی ہو تو خدا تعالیٰ تعبیری رنگ میں ضرور پوری کر دیتا ہے۔جیسا کہ اطولکن