تحقیقِ عارفانہ — Page 26
۲۶ ہے۔،، پھر تحریر فرمایا ہے :- (حقیقۃ الوحی حاشیہ صفحہ ۹۷ طبع اوّل) " بجز اس کے (خاتم النبیین) کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لئے امتی ہو نالازمی ہے۔“ برق صاحب کا اعتراض (حقیقۃ الوحی صفحه ۲۸ طبع اوّل) خاتم النعین کے ان معنوں پر جناب برق صاحب یوں معترض ہیں۔اس آیت کا صرف ایک لفظ خاتم وجہ نزاع بنا ہوا ہے۔احمدی بھائی اس کا ترجمہ مُہر کرتے ہیں محمد ﷺ نبیوں کی مہر ہیں یعنی امت محمدیہ کے انبیاء حضور علیہ السلام کے مہر شدہ فرمان سے آئیں گے اور حضور کی تصدیق کے بغیر آئندہ کوئی نبی نہیں آسکے گا ( ہمارے نزدیک برق صاحب کی یہ تشریح جو انہوں نے احمدیوں کی طرف منسوب کی ہے پورے طور پر صحیح نہیں جیسا کہ آپ آگے چل کر معلوم کریں گے ( مجیب) اور باقی مسلمان خاتم کے معنی آخری کرتے ہیں (احمدی بھی خاتم کے لازمی معنی اس جگہ آخری شارع نبی اور آخری مستقل نبی مانتے ہیں مجیب) دونوں تفسیروں میں انتہائی تضاد ہے ایک تفسیر سے سلسلہ انبیاء جاری رہتا ہے دوسرے سے اپید ہو جاتا ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ جھگڑا فیصلے کے لئے کہاں لے جائیں۔مجھے صرف تین ایسی عدالتیں نظر آتی ہیں جو اس نزاع پر فیصلہ دینے کے مجاز ہیں۔اوّل علمائے لغت یعنی عربی زبان کے ماہرین، دوم قرآن، سوم حدیث۔“ (حرف محرمانه صفحه ۲۰) اس کے بعد محترم برق صاحب نے المنجد اور منتهی الارب دو کتابوں کے حوالے دے کر باقی لغت کی کئی کتابوں کے صرف نام لکھ کر یہ تحریر فرمایا ہے کہ ان میں خاتم و خاتم کے معانی تقریباً ایک جیسے دیئے ہوئے ہیں۔اور خلاصہ خاتم کے معانی کا