تحقیقِ عارفانہ — Page 355
۱- پیشگوئی متعلق محمدی بیگم صاحبہ حضرت مسیح موعود کی اس پیشگوئی کے ذریعہ جس کی ہم وضاحت کریں گے خدا تعالی آپ کے ان رشتہ داروں کو جو دہر یہ اور دین اسلام سے تمسخر کرنے وال تھے ایک نشان دکھانا چاہتا تھا تا جو لوگ ان میں سے اس نشان کو رد کر دیں وہ سزا پائیں اور دوسرے اس سے تنبیہ حاصل کریں۔یہی اس پیشگوئی کی اصل غرض تھی اور کین حکمت الہی اور مصلحت اس میں مضمر تھی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود خود تحریر فرماتے ہیں :- "ہمیں اس رشتہ (محمدی بیگم صاحبہ کے رشتہ ) کی درخواست کی کچھ ضرورت نہ تھی۔سب ضرورتوں کو خدا نے پورا کر دیا تھا۔اولاد بھی عطاء کی اور ان میں سے وہ لڑکا بھی جو دین کا چراغ ہو گا اور ایک لڑکا قریب مدت میں ہونے کا وعدہ دیا جس کا نام محمود احمد ہو گا۔وہ اپنے کاموں میں اولو العزم نکلے گا۔پس یہ رشتہ جس کی درخواست محض اطور نشان ہے تاخد اتعالیٰ اس کنبہ کے منکرین کو مجھ پر قدرت دکھائے اگر وہ قبول کریں تو برکت اور رحمت کے نشان ان پر نازل کرے اور ان بلاؤں کو دفع کرے جو نزدیک ہیں۔لیکن اگر وہ رڈ کر دیں تو ان پر قهری نشان نازل کر کے اُن کو متنبہ کرے۔" (اشتہار ۱۵؍ جولائی ۱۸۸۸ء) ان رشتہ داروں کی حالت حضرت مسیح موعود اپنی کتاب ”آئینہ کمالات اسلام میں یوں بیان کرتے ہیں :- ” خدا تعالیٰ نے میرے چچیرے بھائیوں اور دوسرے رشتہ داروں (احمد بیگ وغیرہ) کو ملحدانہ خیالات اور اعمال میں مبتلا اور رسوم قبیحہ اور عقائد باطلہ اور بدعات میں مستغرق پایا اور ان کو دیکھا کہ وہ اپنے نفسانی جذبات کے تابع ہیں اور خدا تعالیٰ کے وجود سے منکر اور فسادی ہیں۔“ (آئینہ کمالات اسلام صفحه ۵۶۶)