تحقیقِ عارفانہ — Page 336
۳۳۶ لحاظ سے تو ایک نشان ہوتا ہے اور ایک لحاظ سے لاکھوں نشانات پر مشتمل ہوتا ہے۔کافر آنحضرت ماہ سے نشان مانگتے تھے۔یعنی عذاب کا نشان یہ نشان جب پورا ہوا تو ہزار ہا نشانوں پر مشتمل تھا۔(۲)۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو الہا مأ یہ بتایا گیا۔عَلى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ۔یعنی لوگ لوٹوں پر سوار ہو کر دور دراز مقامات سے حج کے لئے آئیں گے حتی کہ راستوں میں گڑھے پڑ جائیں گے۔اب ایک لحاظ سے یہ الہام ایک بھارت پر مشتمل ہے اور دوسرے لحاظ سے حج کو جانے والا ہر فرد خدا تعالیٰ کا ایک نشان بنتا ہے۔اور حج میں جانے والی ہر اونٹنی اور ہر قربانی کا جانور بھی خدا تعالیٰ کا ایک نشان ہے۔قرآن کریم نے تو ہر قربانی کے جانور کے گلے میں پڑے ہوئے قلاوہ کو بھی ایک نشان قرار دیا ہے۔علاوہ از میں قرآن کریم نے زبانوں کے اختلاف ، رنگوں کے اختلاف اور سونے اور جاگنے کو بھی آیات اللہ میں سے قرار دیا ہے۔اگر جناب برق صاحب محض اعتراض تلاش کرنے کی عادت ترک کر دیں اور منصفانہ رنگ میں سوچیں تو کبھی ان کو اعداد و شمار میں یہ اختلاف قابل اعتراض محسوس نہ ہو گا۔اربعین“ کے جس حوالہ میں دو سو سے زیادہ نشانوں کا ذکر ہے اس جگہ دوسو پیشگوئیاں مراد ہیں۔اور انہی پیشگوئیوں کا ذکر حوالہ نمبر ۵ میں جو سو سے زیادہ نشان سے کیا گیا ہے وہ دو سو نشانوں کے خلاف نہیں۔سو سے زیادہ دو سو بھی ہو سکتے ہیں۔پھر وہ نشانات جن کا ذکر ہزاروں اور لاکھوں میں ہے وہ دوسری قسم کے نشانات ہیں۔مثلا یہ نشان که باتِيكَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقَ وَيَا تُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيق يا