تحقیقِ عارفانہ — Page 333
٣٣٣ نہیں رکھی۔جس میں پاکدامن مومنوں کو مریم سے تشبیہ دی گئی ہے۔ایک ضمنی اعتراض برق صاحب کو یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے اپنے الهام يا آدم اسكن انت وزوجك الجنة میں اس بات کے لئے لطیف اشارہ قرار دیا ہے کہ وہ لڑکی جو میرے ساتھ ( توام ناقل) پیدا ہوئی اس کا نام جنت تھا۔حالانکہ یہ ذوقی معنی ہیں۔اور ایسے ذوقی معانی اہل اللہ کے کلام میں بہت جگہ پائے جاتے ہیں۔برق صاحب دیکھئے ! حضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے حضرت یوسف کی دعا انت ولي في الدنيا والاخرہ ایک ان قرآنی کے لحاظ اپنے متعلق بھی قرار دیا ہے۔( الخير الكثير صفحه ۹۶) برق صاحب نے ایک ضمنی اعتراض اس بات پر کیا ہے کہ الہام يَا آدَمُ اسْكُنُ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ يَا مَرْيَمُ اسْكُنُ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ يَا أَحْمَدُ اسْكُنُ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ میں تیسرے الہام سے آپ نے یہ اجتہاد کیا تھا۔لیکن تیسری زوجہ جس کی انتظار ہے اس کے ساتھ احمد کا لفظ شامل کیا اس پر برق صاحب کو اعتراض ہے کہ :- الجواب (ضمیمہ انجام آتھم صفحه ۵۴) تیسری زوجہ کا انتظار آخر تک انتظار ہی رہا۔“ (حرف محرمانہ صفحہ ۲۴۸) اس کے متعلق عرض ہے کہ کبھی مامور ایک بات کسی الہام سے بطور اجتہاد کے اخذ کرتا ہے مگر یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ہمیشہ اس کا اجتہاد درست ہی ہو کلام الہی چونکہ اکثر ذو المعانی ہوتا ہے اس لئے مامور کبھی ایک اجتہاد کرتا ہے اور اس میں خطا واقع ہو جاتی ہے۔اس سے اس کی نبوت پر حرف نہیں آتا۔اگر اجتہادی خطا پر کسی نبی کو رد کیا جاسکتا ہے تو پھر جناب برق صاحب کو ان انبیاء کو رد کرنا پڑے گا۔جن کے اجتہاد