تحقیقِ عارفانہ — Page 332
برق صاحب کی طنز ۳۳۲ الجواب اس جگہ جناب برق صاحب نے دوسرے ترجمہ پر یہ طنز بھی کی ہے۔لیکن عجیب قسم کی مریم ہے جس کی بیوی بھی ہے۔“ (حرف محرمانه صفحه ۲۴۶) میں حیران ہوں کہ برق صاحب ڈاکٹر بھی ہیں پروفیسر بھی ہیں۔لیکن اعتراض ایسے کر رہے ہیں جو ان کی شان کے صریح منافی ہیں۔جناب برق صاحب !جب آپ حرف محرمانہ لکھ رہے ہیں تو کیا آپ کو یہ معلوم نہیں حضرت اقدس نے اپنے تئیں اس الہام الہی میں استعارہ کے طور پر مریم ( یعنی پاک دامنی میں مریم سے مشابہ ) قرار دیا جانے کا ذکر فرمایا ہے۔پھر سورہ تحریم میں مومنوں کو آئت ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلاً لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَءَ تَ ن وَ مَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ التِي أَحْصَنَتْ فَرُ جَهَا فَنَفَحْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا۔(التحریم : ۱۲ ۱۳) میں خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دو عورتوں سے تشبیہ دی ہے جن میں سے ایک فرعون کی بیوی ہے جو موسی پر ایمان رکھتی تھی اور دوسری مریم صدیقہ والدہ حضرت عیسی سے تشبیہ دی ہے۔لہذا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو استعارہ کے طور پر ان کی پاک دامنی کی تعریف کے لئے خدا تعالیٰ نے مریم قرار دیا تو آپ کو اس سے تعجب کیوں ہوا ہے ؟ دیکھ لیجئے آپ میں اور احمدیت کے ان مخالف مصنفوں میں جن کا خود آپ کو شکوہ ہے کیا فرق رہ گیا ؟ وہ بھی استہزا سے کام لیتے ہیں۔آپ بھی استہزا سے کام لے رہے ہیں۔اور نادانی اس میں خود آپ کی ہے کہ آپ نے قرآن مجید کی یہ آیت مد نظر