تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 315 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 315

۳۱۵ برق صاحب نے اس کا صرف ایک پہلو ہی سمجھا ہے کہ خدا کسی ایک جہت میں مقید نہیں۔اس کا نام تغییر دانی نہیں پھر جدھر تمہارا منہ خدا کا منہ اسی طرف ہے میں خدا تعالیٰ کی توہین کا کوئی پہلو نہیں نکلتا۔اگر اس میں توہین کا کوئی پہلو ہوتا تو پھر خدا تعالى قم وَحُهُ الله کے الفاظ استعمال ہی نہ کرتا۔جن کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ اسی طرف خدا کا منہ ہے۔اس میں تو مومنوں کو امید دلائی گئی ہے کہ جدھر وہ متوجہ ہوں گے ادھر خدا متوجہ ہو کر انہیں فتوحات دے گا۔اس میں خدا تعالی کی تحقیر کا کوئی پہلو نہیں نکلتا بلکہ اس کی عظمت کا پہلو نمایاں ہے کہ مومن اس کی مدد کو پائیں گے۔اور اس کی مدد سے ان کے سب کام بن جائیں گے۔بشر طیکہ وہ خدا کی طرف متوجہ ہوں اور دعاؤں میں لگے رہیں اور کامیابیوں کی راہوں پر گامزن رہیں۔جمع کے صیغہ سے واحد کے لئے استنباط یا واحد کے خطاب کو جمع کے لئے سمجھنا کس فقہ کی رو سے ناجائز ہے۔جب ایک آیت ایک جماعت کے حق میں ہو تو وہ اس جماعت کے بانی کے حق میں تو بدرجہ اولی ہو گی اس لئے بائی سلسلہ یا جماعت اگر کسی وقت اس الہام کو اپنی ذات پر چسپاں کر کے دکھائے تو یہ امر جائز ہو گا۔اور ہر گز قابل اعتراض نہیں ہو گا۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کو جماعت کے شامل حال قرار دیا گیا ہو۔تو وہ تائید و نصرت بانی سلسلہ کے لئے بدرجہ اولی ہو گی۔کیا انتم الاعلونَ إِنْ كُنتُمْ مُؤْمِنِينَ (آل عمران :۱۳۰) الله سے یہ استنباط جائز نہیں کہ خدا تعالی یہ پیشگوئی فرمارہا ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے دشمنوں پر غالب آئیں گے۔حالانکہ آیت میں سب جمع کے صیغے استعمال ہوئے ہیں۔اعتراض دوم برق صاحب لکھتے ہیں :- " قرآن کریم میں حضور علیہ السلام کے کئی غزوات کا ذکر موجود ہے۔“ (حرف محرمانه صفحه ۲۳۶)