تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 314 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 314

۳۱۴ منہ ہے اور جو کسی کے سامنے ہو کیا اس کے متعلق یہ کہنا کہ اس کا منہ اس کی طرف ہے غلط ہو گا ؟ برق صاحب نے جس امر پر اعتراض کیا ہے وہ دراصل آیت قرآنیہ نہیں بلکہ تبلیغ رسالت کی متحولہ عبارت کو پڑھنے سے ہر شخص اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ یہ عبارت حضرت اقدس پر ایک خاص سیاق میں بطور الہام نازل ہوئی ہے۔اور اس کے سیاق میں یہ الہام ہے " مَا كَانَ اللهُ لِيُعَدِ بَهُمُ وَأَنتَ فيهم " اور اس سے ملحق یہ الہام ہوا ہے۔"أَيْنَمَا تَوَ أَوَافَقَمْ وَجَهُ اللهِ "اور اس الہام کے پہلے حصہ میں آپ نے سلطنت بر طانیہ کے متعلق ایک پیشگوئی بتائی ہے۔کہ میری موجودگی میں اس پر عذاب نہیں آئے گا۔اور آيْنَمَا تُوَلُّوا فَتَمَّ وَحَهُ الله کی یہ تفسیر بیان فرمائی ہے کہ گورنمنٹ کے اقبال اور شوکت میں تیرے وجود اور تیری دعا کا اثر ہے۔اور اس کی فتوحات تیرے سبب سے ہیں۔کیونکہ جدھر تیرا منہ ادھر خدا کا منہ ہے۔صاف ہے کہ حضرت اقدس نے اپنے الہام کو اپنے اوپر چسپاں کرتے ہوئے اس جگہ اس کی تشریح بیان فرمائی ہے۔الہام میں بیشک تولوا جمع کا صیغہ ہے اور اس میں ذکر جماعت احمدیہ اور اس کے بانی کا ہے۔چونکہ اس موقع پر حضرت اقدس کو صرف اپنا تعلق گورنمنٹ سے بتانا تھا۔کہ آپ باغی نہیں بلکہ اس پر امن سلطنت کے ظل حمایت میں خوش ہیں اور اس کے لئے اپنے الہام کے مطابق دعا میں مشغول ہیں لہذا ” جدھر تیرا منہ ادھر خدا کا منہ ہے۔“ سے مراد یہ ہوئی کہ آپ کی دعائیں خصوصیت سے سنی جاتی ہیں۔اور قرآن کی آیت کا بھی صرف یہی مفہوم نہیں کہ خدا تعالیٰ کسی جہت میں مقید نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ مومن جدھر بھی متوجہ ہوں گے خدا انہیں کامیابی دے گا۔خدا کا منہ ادھر ہونے سے مراد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ان کی دعاؤں کو سنے گا۔اور انہیں فتوحات دے گا۔اور ان کی تائید و نصرت فرمائے گا۔