تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 296 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 296

۲۹۶ نے مباہلہ کا لفظ استعمال کیا تھا اور کہا تھا کہ ” نہیں ہمارے سامنے لاؤ جس نے ہمیں رسالہ انجام آتھم میں دعوت مباہلہ دی ہوئی ہے۔مگر جب حضرت اقدس کی طرف سے مبلہ کا چیلنج منظور کیا گیا تو وہ یہ طرح دے گئے کہ میں نے قسم کھانے پر آمادگی کی ہے نہ مباہلہ پر۔مباہلہ میں تو فریقین قسم کھاتے ہیں۔حضور نے اس سے یہ تاثر لیا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نہ تو کھل کر مباہلہ کرنے سے انکار کرتے ہیں اور نہ اس کے لئے آمادہ نظر آتے ہیں۔اس لئے آپ نے مولوی ثناء اللہ صاحب کی اس پوزیشن کو واشگاف کرنے کے لئے ۱۵ ، اپریل 1906ء کو ایک کھلی چٹھی ، نام مولوی ثناء اللہ صاحب امر تسری بعنوان ” مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ لکھی۔اور اس میں اپنی طرف سے سنت اللہ کے مطابق ایک دعائے مباہلہ شائع کر دی۔جس کا خلاصہ مضمون یہ تھا کہ جھوٹا بچے کی زندگی میں طاعون ہیضہ و غیر ہ امراض سے ہلاک ہو۔جناب برق صاحب نے درمیانی زمانے کی ان تحریروں کو حجاب خفا میں قرار دے کر انہیں پیش کرنے سے اس لئے گریز کیا ہے۔تا وہ درمیانی کڑیوں کو جو مباہلہ سے تعلق رکھتی ہیں حذف کر کے حضرت اقدس کی ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ ء والے مکتوب کی تحریر کو یکطرفہ دعا قرار دے سکیں اور اس پر اپنے اعتراض کی عمارت کھڑی کر سکیں ور نه در میانی زمانہ کی یہ باتیں پر وہ خفا میں نہ تھیں۔ہاں برق صاحب کے دل میں چور تھا که اگر در میانی زمانہ کی تحریریں میں نے پیش کر دیں اور اس طرح یہ درمیانی کڑیاں میں نے خود واضح کر دیں تو ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ ء والے خط کی دعا یک طرفہ قرار نہیں دی جا سکتی۔اور ان کے اعتراض کی عمارت از خود گر جائے گی۔پھر اس سے بڑھ کر قابل افسوس امر یہ ہے کہ برق صاحب نے حضرت اقدس کا مولوی شاء اللہ کی طرف کی 19ء کا مکتوب تو نقل کر دیا ہے مگر مولوی شاء اللہ صاحب نے اس کا جو جواب دیا تھا وہ دانستہ چھپایا ہے یہ ان کی ایک غیر منصفانہ بلکہ