تحقیقِ عارفانہ — Page 293
۲۹۳ اعتراض کرنے کے لئے آگے بڑھ گئے ہیں کہ ایسا کوئی پوسٹر مولوی ثناء اللہ صاحب کی طرف سے شائع ہوا تھا یا نہیں علم نہیں۔حالانکہ اگر آپ کو علم نہیں تھا تو آپ " حرف محرمانہ لکھنے کیوں بیٹھے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ ایسا کوئی پوسٹر مولوی ثناء اللہ صاحب کی طرف سے شائع نہیں ہوا بلکہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس فیصلہ کے متعلق ٹال مٹول سے کام لیا۔حضرت اقدس کی دعا جو صفحہ ۱۴، ۱۵ اعجاز احمدی میں بیان کی گئی ہے۔وہ اس صورت میں نتیجہ خیز ہو سکتی تھی کہ مولوی ثناء اللہ صاحب اس فیصلہ پر مستعد ہو جاتے کہ کاذب صادق سے پہلے مرے۔حضرت اقدس نے اس وقت تک کوئی دعا کی ہی نہیں تھی۔بلکہ ایک دعا تجویز کی تھی اور لکھا تھا کہ ثناء اللہ صاحب اس فیصلہ پر مستعد ہوئے تو ہم یہ دعا کرتے رہیں گے کہ صرف وہ موت کاذب کو آئے جو بیماری کی موت ہوتی ہے۔چونکہ مولوی شاء اللہ صاحب اس فیصلہ پر مستعد نہ ہوئے اس لئے حضور نے ان کے متعلق خصوصیت سے کوئی دعا نہیں کی تھی ہاں عام دعا آپ نے کی تھی جو اعجاز احمدی صفحہ ۱۶،۱۷ میں درج ہے جس میں اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ تو ہم میں اور مخالفوں میں فیصلہ کر دے اور انہیں جو تیری نظر میں صادق ہیں ضائع مت کر الخ یہ مخصوص طور پر مولوی ثناء اللہ صاحب کے لئے دعا نہ تھی بلکہ سب مخالفوں کے مد نظر دعا تھی اس لئے اس کا ذکر اس جگہ برق صاحب کے لئے کوئی فائدہ خش نہیں۔پھر برق صاحب لکھتے ہیں :- ۱۹۰۲ء اور 1906ء کے درمیانی عرصہ میں مولوی صاحب اور مرزا صاحب نے اس مقابلہ کے سلسلہ میں کیا کچھ کہا اور لکھا حجاب خفا میں ہے۔“ (حرف محرمانه صفحه ۲۱۵)