تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 280 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 280

۲۸۰ "جب حکومت کابل نے دو احمد یوں ملا عبد الرحیم چهار آسیائی اور ملا انور علی کو موت کی سزادی تو وہاں کی وزارت خارجہ نے اعلان ذیل جاری کیا۔“ مملکت افغانیہ کے مصالح کے خلاف غیر ملکی لوگوں کے سازشی خطوط ان کے قبضہ سے پائے گئے جن سے پایا جاتا ہے یہ افغانستان کے دشمنوں کے ہاتھ بک اخبار امان و افغان کابل ماخوذ از الفضل ۳ مارچ ۱۹۲۵ء) چکے۔" الجواب جناب برق صاحب نے اس عبارت کے پیش کرنے میں بھی حسب عادت دیانت سے کام نہیں لیا۔اور یہ تاثر پیدا کرنا چاہا ہے کہ مملکت افغانیہ نے ان دو احمد یوں کو اس وجہ سے موت کی سزادی تھی کہ ان کے قبضہ میں غیر ملکی لوگوں کے سازشی خطوط پائے گئے تھے۔حالانکہ غیر ملکی خطوط کا ہونا کوئی جرم نہیں۔اگر وہ سازشی نہ ہوں۔برق صاحب نے اس حوالہ کا آخری فقرہ درج نہیں کیا۔وہ یہ ہے۔اس واقعہ کی تفصیل مزید تفتیش کے بعد شائع کی جائے گی۔“ اس فقرہ سے ظاہر ہے کہ حکومت افغانستان اپنے اس الزام پر پختہ نہیں تھی۔اور وہ ابھی مزید تفتیش کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔اور اس نے اسے بعد میں شائع کرنے کا وعدہ کیا تھا۔الفضل نے اس کی تردید بھی کی تھی۔مگر جناب برق صاحب حکومت افغانستان کے بیان کے اوپر کے حصہ کو بھی ترک کر رہے ہیں۔اور الفضل کی تردید کا بھی ذکر نہیں کرتے۔اور اس امر کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ عدالت نے ان لوگوں کو نہ ہی اختلاف کی بناء پر قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔نہ کہ کسی سیاسی سازش کی بناء پر۔اگر کوئی سیاسی سازش تھی تو حکومت نے کیوں اسے عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا۔پھر اگر کوئی خطوط پکڑے گئے تھے۔اور حکومت نے اعلان کیا تھا۔کہ :- کہ اس واقعہ کی تفصیل مزید تفتیش کے بعد شائع کی جائیگی۔“