تحقیقِ عارفانہ — Page 216
۲۱۶ ہوتی۔اس کے لئے صرف چودہویں صدی میں ظہور پذیر ہونے میں مشابہت کا پایا جاتا کافی ہے۔ہم اس موقعہ پر یہ اظہار کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ چونکہ محترم برق صاحب کی نیت خیر نہ تھی اس لئے اس حسابی شمار میں انہوں نے دوسروں کو مغالطہ دینے کے لئے ایک محقق مصنف کا فرض ادا نہیں کیا۔بلکہ یوں ظالمانہ اور بے انصافی کا طریق اختیار کیا ہے کہ درمیانی عرصہ کو کم دکھانے کے لئے ایک طرف آنحضرت مے کی وفات کا سال لیا ہے اور دوسری طرف مسیح موعود کی پیدائش کا سال لیا ہے۔اگر برق صاحب کی نیت خیر ہوتی تو حساب لگاتے ہوئے دونوں کی پیدائش یا دونوں کی وفات کا سن لے کر درمیانی عرصہ شمار کرتے۔جناب برق صاحب نے آنحضرت ﷺ کی وفات اور مسیح موعود کی پیدائش کے در میان ۱۲۴۴ قمری سالوں کا زمانہ تسلیم کیا ہے۔مسیح موعود نے قمری حساب سے تقریباً ۷۶ سال کی عمر پائی ہے۔۱۲۴۴ میں ۷۶ جمع کئے جائیں تو ۳۲۰ ۱ سال قمری بن جاتے ہیں۔جو چودھویں صدی ہی ہوئی۔اس شمار سے بھی دونوں سلسلوں موسوی اور محمدی کے اول نبی اور آخری خلیفہ کے چودہویں صدی میں ظہور کی اہم مشابہت کا تحقق ثابت ہو جاتا ہے۔تنقید کی جزوسوم کی کتابوں سے پیش کی ہیں کہ :- جز و سوم کے ذیل میں برق صاحب نے حضرت اقدس کی چند عبارتیں آپ " ممکن ہے کہ میرے بعد کوئی اور مسیح ابن مریم بھی آوے۔“ (ازالہ اوہام صفحه ۴۸۸ طبع اول) ”اس عاجز کی طرف سے یہ دعویٰ نہیں کہ مسیحیت کا میرے وجود پر خاتمہ ہے اور آئندہ کوئی مسیح نہیں آئیگا۔“ (ازالہ اوہام صفحہ ۲۹۶ طبع اول)