تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 215 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 215

۲۱۵ عیسی کا درمیانی زمانہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے چودہ سو سال بیان کیا ہے۔اس کو تسلیم کر کے برق صاحب نے آنحضرت عے اور بانی سلسلہ احمدیہ کے درمیانی زمانہ کو کم دکھانے کے لئے یوں حساب لگایا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے سال اور بانی سلسلہ احمدیہ کی پیدائش کے سال کے درمیانی زمانہ کا شمار کر کے اسے قمری حساب سے باره سو چوالیس سال دکھایا ہے۔مگر اس میں سراسر ایک مغالطہ ہے آخر وہ آنحضرت ﷺ کی پیدائش کے زمانہ سے کیوں شمار نہیں کرتے یا آنحضرت ﷺ کی بعثت کے زمانہ سے کیوں حساب نہیں لگاتے ؟ آنحضرت ﷺ کی عمر ۶۳ سال تھی۔اگر زمانہ آپ کی پیدائش سے شمار ہو تو اس طرح بارہ سو چوالیس میں ۶۳ سال کا اضافہ ہو گا۔تو ۱۲۲۴ + ۶۳ کل ۱۳۰۷ سال بن جائیں گے۔چونکہ ۶۳ سال کسی قریباً ۶۵ سال قمری ہتے ہیں۔اس لحاظ سے مسیح موعود اور آنحضرت ﷺ کا درمیانی زمانہ ۱۳۰۹ سال قمری قرار پاتا ہے۔جو چودھویں صدی ہے۔اور یہ وہ زمانہ ہے جب مسیح موعود کا دعوئی موجود تھا۔اگر زمانہ کا شمار آنحضرت ﷺ کی بعثت سے کیا جائے تو چالیس سال تیرہ سونو میں سے کم کئے جائیں گے تو درمیانی زمانہ ۱۳۶۹ سال قمری قرار پائے گا۔اور جناب برق صاحب کو یہ مسلم ہے کہ حضرت مرزا صاحب کو پہلی مرتبہ الہام (حرف محرمانه صفحه ۱۲۸) چونکہ حضرت مرزا صاحب کی وفات ۱۳۲۶ھ میں ہوئی ہے اس لئے چودہویں صدی میں سے آپ کو ۲۶ سال ملے ہیں اور اسی زمانہ میں آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔پس جب چودہویں صدی میں آپ کا دعویٰ ثابت ہو گیا تو حضرت مسیح ناصری اور حضرت موسی کے درمیانی زمانہ اور آنحضرت ﷺ اور مسیح موعود کے درمیانی زمانہ میں اہم مشابہت ثابت ہو گئی اور اہم مشابہت کو ہی مشابہت تامہ کہتے ہیں۔مشابہت تامہ کے لئے گھنٹوں اور منٹوں میں مشابہت ضروری نہیں ۱۸۶۵ء میں ہوا تھا۔