تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 193 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 193

۱۹۳ ذریعہ الصديقين، الشهداء اور الصالحین کے مقامات بھی عطف کر دئیے اور آیت کے آخر میں حَسُنَ أولئك رفيقاً کہہ کر توجہ دلا دی کہ اس رفاقت کو ظاہری اور معمولی رفاقت نہ سمجھا جائے۔بلکہ اچھی قسم کی رفاقت سمجھا جائے جو ایک گورنر کو گورنر سے یا ایک ڈپٹی کمشنر کو ڈپٹی کمشنر سے یا ایک تحصیلدار کو تحصیلدار سے ہوتی ہے۔گویا اس جگہ رفاقت في الدرجہ مراد ہے نہ کہ رفاقت ظاہری جو زمانی اور مکانی ہوتی ہے۔مکانی اور زمانی رفاقت اس جگہ محال ہے۔کیونکہ آنحضرت ﷺ کی اطاعت کرنے والے امتی سابق انبیاء صدیقین، شہداء اور صالحین کا زمانہ اور مکان تو اس دنیا میں پاہی نہیں سکتے۔جب ظاہری معیت محال ہوئی تو یہ امر قرینہ ہوگا۔اس بات کے لئے کہ آیت میں معنوی معیت ہی مراد ہے اور معنوی معیت سے مراد یہی ہوتی ہے کہ درجہ میں معیت ہو۔پس آنحضرت ﷺ کی اطاعت کرنے والوں کو جس طرح صدیقوں ، شہداء اور صالحین کا درجہ مل سکتا ہے ویسے ہی نبیوں کا درجہ بھی مل سکتا ہے ان معنوں کے سوا آیت کے کوئی اور معنی لینا اس کلام کے حسن کو بگاڑ دینے کے مترادف ہے۔اور ایسے معنی آنحضرت ﷺ کی با عظمت شان کے صریح منافی ہیں۔مَع کا لفظ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِم کے ساتھ آیا ہے۔اس سے صرف ظاہری رفاقت مراد لینے کے یہ معنی ہونگے کہ امت محمدیہ پر اللہ تعالیٰ کا انعام نہیں ہو گا۔پس ظاہری معیت معنی لینا اس جگہ نا مناسب ہیں۔قرآن کریم نے مع کا لفظ کئی جگہ معنوی معیت کے لئے استعمال فرمایا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِى الدَّرَكِ الاَ سُفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّهِ وَاَخَلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّهِ فَأُولئِكَ مَعَ