تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 183 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 183

۱۸۳ ہے۔66 وو یہ دعویٰ من جانب اللہ ہونے اور مکالمات الہیہ کا قریباً تیس برس سے اربعین نمبر ۳ صفحه ۶ طبع اول) برقی صاحب نے ۱۹۰۰ ء میں سے تمہیں برس گھٹا کر ۱۸۷۰ء نکالا ہے۔اربعین میں لَو تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ اللَّهَ فَاوِيلِ والی آیت زیر بحث ہے۔جس سے ظاہر ہے کہ جھوٹے العام گھڑنے والا آنحضرت ﷺ کے دعوئی الہام کی عمر نہیں پا سکتا جو تھیں سال ہے۔حضرت اقدس اس جگہ ۱۹۰۰ ء میں یہ بتارہے ہیں کہ آپ کو خدا تعالیٰ نے قریباً تیس برس پہلے مکالمات الہیہ سے مشرف فرما دیا تھا۔اور اس کے بعد آپ پر ایسے البهامات نازل ہو چکے تھے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے جارہے ہیں۔قریباً تین برس کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ آپ اندازے سے فرمارہے ہیں۔کوئی معین سن بیان نہیں فرمار ہے۔جب کہ آپ مکالمہ مخاطبہ الہیہ سے مشرف ہوئے۔برق صاحب براہین کے حوالہ سے دکھا چکے ہیں کہ ۱۸۶۹ء میں آپ پر یہ الہام ہو چکا تھا وہ تجھے بہت برکت دے گا۔یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔“ پس اس برس کو بھی تقریباً تمیں برس کہا جاسکتا ہے۔اور اگر ۱۸۷۹ء کو مکالمہ مخاطبہ الہیہ کا آغاز سمجھا جائے تو اربعین کی عبارت کا بھی دوسری عبارتوں سے کوئی تناد پیدا نہیں تھا۔اسی طرح اربعین میں آپ کا یہ لکھنا میرے وحی اللہ پانے کے دن سید نا ہر مصطفے میلے کے دنوں سے برابر کئے سے مراد یہ تو لی جا سکتی ہے کہ اس وقت تک آپ پر وحی اور الہام کے نزول پر تئیس سال بہر حال گزر چکے ہیں جو آنحضرت لے پر الہامات کے نزول کا زمانہ ہے مگر اس عبارت سے یہ مراد نہیں لی جا سکتی کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے الہامات پر اس وقت تئیس سال سے زیادہ عرصہ نہیں -