تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 150 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 150

۱۵۰ برق صاحب اس حوالہ کی رو سے مسیح موعود پر ایمان لانا ضروری قرار نہیں دیتے حالانکہ اس حوالہ کا مفاد صرف یہ ہے کہ نزول مسیح کا عقید و اسلام کے ارکان میں سے نہیں۔بلکہ منجملہ پیشگوئیوں کے ایک پیشگوئی تھی۔اسلام کے ارکان پانچ ہیں۔کلمیه شهادت، نماز، روزہ، حج اور زکوۃ اور نزول مسیح کا عقیدہ واقعی ان پانچ رکنوں میں سے نہیں بلکہ ان پیشگوئیوں میں سے ہے جن کا ظہور سے پہلے اجمالی طور پر ماننا ضروری ہوتا ہے۔ہاں جب مسیح موعود کا ظہور ہو گیا اور آنحضرت ﷺ کا یہ نائب بطور حکم و عدل ظاہر ہو گیا تو اس کے فیصلوں کو قبول نہ کرنا اور اس سے عداوت رکھنا منشاء ایزدی کی مخالفت کرتا ہے۔خود حضرت اقدس مسیح موعود پر بعد از ظهور مسیح موعود ایمان لانا ضروری قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں :- الْكَافِرِينَ 66 66 فَانَا ذَالِكَ الْمَظْهرُ المَوْعُودُ وَالنُّورُ الْمَعُهُودُ فَآمَنْ وَلَا تَكُنُ مِنَ خطبہ الہامیہ صفحه ۷۸ اطبع اوّل) یعنی میں وہ مظہر موعود اور نور معہود ہوں پس (اے مخاطب) تو ایمان لا اور منکروں میں سے مت ہو۔“ حدیث میں تو ولی کی مخالفت کے بارہ میں بھی وارد ہے۔مَنْ عَادِی ولیالی فقد آذنته للحرب۔پس جب ایک ولی سے عداوت بھی خدا سے لڑائی کے مترادف ہے تو جس کو خدا نے امت کے لئے حکم بنا کر بھیجا اس کی عداوت اور مخالفت کیوں کر اس سے زیادہ بُرا پھل نہیں لائے گی؟ اور کیوں وہ سلب ایمان کا موجب نہ ہو گی۔کفر کا لفظ ہمارے نزدیک ایک اضافی اصطلاح ہے۔اسی طرح دائرہ اسلام سے خروج کا لفظ کبھی کسی قبیح فعل کی شدت ظاہر کرنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے یعنی اطاعت کے دائرہ سے نکل جانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔