تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 149 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 149

۱۴۹ قبول نہیں کی جاتیں۔یہ سادہ لوح یا تو افتراء سے ایسا کہتے ہیں یا محض حماقت سے۔ہم اس کے جواب میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعویٰ کی حد یث بنیاد نہیں۔بلکہ قرآن اور وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ہاں تائید ی طور پر ہم وہ حد یشیں بھی پیش کرتے ہیں۔جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔اگر حدیثوں کا دنیا میں وجود بھی نہ ہو تا تب بھی میرے اس دعویٰ کو کچھ حرج نہ پہنچتا تھا۔ہاں خدا نے میری وحی میں جابجا قرآن کریم کو پیش کیا ہے چنانچہ تم براہین احمدیہ میں دیکھو گے اس دعویٰ کے متعلق کوئی حدیث بیان نہیں کی گئی۔جابجا میری وحی میں خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کو پیش کیا۔“ اعجاز احمدی صفحه ۳۰-۳۱ طبع اول) پس برق صاحب کا یہ لکھنا کہ آپ کے نزدیک تمام حدیثیں تحریف لفظی اور معنوی سے آلودہ یا سرے سے موضوع ہیں۔حضرت اقدس کی ان تحریرات کی روشنی میں سراسر باطل ہے۔لہذا ان کا یہ خیال بھی باطل ہے کہ آپ نے مسیح موعود کا دعویٰ حدیثوں کی بنا پر کیا ہے۔حدیثیں تو آپ صرف تائید دعویٰ میں پیش کرتے ہیں ورنہ اپنے دعوی کی بنیاد آپ قرآن مجید اور اپنے الہامات پر قرار دیتے ہیں۔ایک اور عبارت کا حل پھر جناب برق صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک اور عبارت یوں پیش کرتے ہیں :- " مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہمارے ایمانیات کی کوئی جز و یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔بلکہ صد با پیشگوئیوں میں سے یہ ایک پیشگوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔“ (ازالہ اوہام جلد ا صفحه ۱۴۰ طبع اوّل)