تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 137 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 137

۱۳۷ اس اقتباس سے ظاہر ہے کہ حضرت اقدس کے نزدیک تشریعی نبی کے لئے نئے احکام لانا یا سابقہ شریعت میں ترمیم و تنسیخ کرنا یا اس کے کسی حکم کو معطل کرنا ضروری ہے۔پھر حضور ” تجلیات الہیہ “ میں فرماتے ہیں۔نہی کے لفظ سے اس زمانہ کے لئے صرف خدا تعالیٰ کی یہ مراد ہے کہ کوئی شخص کامل طور پر شرف مکالمه و مخاطبہ المیہ حاصل کرے اور تجدید دین کیلئے مامور ہو یہ نہیں کہ کوئی دوسری شریعت لائے کیونکہ شریعت آنحضرت مال پر ختم ہے اور آنحضرت کے بعد کسی پر نبی کے لفظ کا اطلاق بھی جائز نہیں جب تک اس کو امتی بھی نہ کہا جائے۔جس کے یہ معنی ہیں کہ ہر ایک انعام اس نے آنحضرت نے کی پیروی سے حاصل کیا ہے۔“ (تجلیات الهیه صفحه و طبع اول) پھر چشمہ معرفت میں جو آخری کتابوں سے ہے تحریر فرماتے ہیں۔”ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ حقیقی اور واقعی طور پر تو یہ امر ہے کہ ہمارے سید و مولا آنحضرت عله خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد مستقل طور پر کوئی نبوت نہیں اور نہ شریعت اگر کوئی ایساد عویٰ کرے تو بلا شبہ وہ بے دین اور مردود ہے۔“ چشمه معرفت صفحه ۳۲۴ طبع اول) ” خدا اس شخص کا دشمن ہے جو قرآن کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہے۔اور محمدی شریعت کے خلاف چلتا ہے اور اپنی شریعت چلانا چاہتا ہے۔“ چشمه معرفت صفحه ۳۲۴،۲۵ طبع اول) محترم برق صاحب کی خدمت میں یہ عبارتیں پیش کرتے ہوئے ہم اس تعجب کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اگر وہ احمدیت کے محرم راز تھے تو انہوں نے کیوں ان عبارتوں کے خلاف حضرت بانی سلسلہ احمدیہ پر تشریعی نبوت کے دعوی کا