تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 136 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 136

۱۳۶ نے اپنے نفس پر حرام نہیں کیا کہ تجدید کے طور پر کسی اور مامور کے ذریعہ سے یہ احکام صادر کرے کہ جھوٹ نہ بولو جھوٹی گواہی نہ دو۔زنانہ کرو خون نہ کرو اور ظاہر ہے کہ ایسا بیان کرنا میان شریعت ہے جو مسیح موعود کا بھی کام ہے۔" اربعین کی عبادت کی تشریح اربعین نمبر ۴ صفحه ۸۴۷ طبع اول) محترم برق صاحب نے جو حوالہ پیش فرمایا ہے یہ ان کے اس مقصد کا کہ ہر نبی شریعت جدیدہ لاتا ہے۔مؤید ہونے کی بجائے اس کے صریح خلاف ہے۔اس کا ما حصل جیسا کہ اس حوالہ کے آخری فقرات سے ظاہر ہے یہ ہے کہ ایک مجدد دین پر بیان شریعت کے طور پر سابقہ شریعت کے ایسے احکام نازل ہو سکتے ہیں کہ جھوٹ نہ بولو، جھوٹی گواہی نہ دو، زنانہ کرو، خون نہ کرو وغیرہ اور ان کا نزول کوئی جدید شریعت نہیں کہلا سکتا۔صرف بیان شریعت ہی ہو گا۔اس لئے گو یہ احکام شریعت مطلقہ کی ذیل میں آتے ہیں۔مگر شریعت جدیدہ نہیں کہلا سکتے کیونکہ اس عبارت میں صاف طور پر بتایا گیا ہے کہ قرآن ربانی کتابوں کا خاتم ہے جب حضرت مرزا صاحب کے نزدیک قرآن ربانی کتابوں کا خاتم ہے تو آپ کی وہ وحی جو قرآنی امرونسی پر مشتمل ہے صرف بیان شریعت ہوئی نہ کہ شریعت جدیدہ۔شریعت جدیدہ کی وحی تو صرف تشریعی نبی پر نازل ہو سکتی ہے۔دیکھئے آپ اپنی کتاب "الوصیت " میں جو " اربعین“ سے بعد کی تصنیف ہے اور جس کا نام اسکی اہمیت کو ظاہر کر رہا ہے فرماتے ہیں۔۔وو یہ خوب یادر کھنا چاہیے کہ نبوت تشریعی کادرواز و بعد آنحضرت نے بالکل مسدود ہے اور قرآن مجید کے بعد اور کوئی کتاب نہیں جو نئے احکام سکھائے یا قرآن شریف کا حکم منسوخ کرے یا اسکی پیروی معطل۔بلکہ اس کا عمل قیامت تک ہے۔“ (الوصیت صفحه ۱۲ طبع اول)