تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 117 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 117

112 يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ الله (الفتح : 11) کہ جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے بیعت بیعت کرتے ہیں نیز فرماتا ہے وَمَارَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى الانتقال : (۱۸) کہ بدر میں جو مٹھی کنکروں کی (اے نبی) تم نے کافروں کی طرف پھینکی وہ تم نے نہیں اللہ تعالیٰ نے پھینکی ہے۔ان آیات میں آنحضرت ﷺ سے عقد بیعت کو خدا تعالیٰ سے عقد بیعت اور آنحضرت ﷺ کے ایک فعل کو خدا تعالیٰ کا فعل قرار دے کر بتایا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کے مظہر اور طبل کامل تھے اسی طرح انبیاء کرام جو آپ سے پہلے گذرے وہ بھی بدرجات متفاوتہ اللہ تعالیٰ کے مظاہر واظلال تھے۔لیکن اس کے باوجود ان سب کے مبادی تعنیات الگ الگ تھے۔جس کی وجہ سے ان کے اللہ تعالیٰ سے ظلیت میں اتحاد کے باوجود کسی کے متعلق بھی یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ وہ باری تعالیٰ کے تمام صفات کا حامل تھا کیونکہ یہ امر شرک ہے۔خدا تعالی ازلی خالق اور مالک ہے مگر ان میں سے کوئی صفت انبیاء میں موجود نہ تھی ہاں وہ اللہ تعالیٰ کے ظل ضرور تھے۔حدیث میں تو سلطان عادل کو بھی ظل اللہ قرار دیا گیا ہے۔گویا اسے صفت عدل میں ظل قرار دیا گیا ہے نہ کہ ازلی اور خالق ہونے میں۔پھر خدا تعالیٰ معبود ہے اور انبیاء سب عابد تھے۔خدا تعالیٰ کا علم غیر محدود ہے اور ان کا علم محدود تھا۔خدا تعالیٰ کی قدرت غیر محدود ہے اور ان کی قدرت محدود تھی۔لیکن اس کے باوجود چونکہ ان کی ذات پر صفات الہیہ کا پر تو تھا اس لئے یہ سب انبیاء مختلف درجوں میں خدا تعالیٰ کے اظلال اور مظاہر تھے۔اور ان سب میں سے خدا تعالیٰ کا کامل مظہر سرور کا ئنات حضرت محمد مصطفی ﷺ کا وجود باجود ہے۔دوسرے انبیاء کے مبادی تعنیات تو یہ ہیں کہ یہ سب خدا تعالیٰ کے خلیفہ تھے اور مستقل نبی اور رسول تھے جن میں بعض جدید شریعت لاتے رہے اور بعض پہلی شریعتوں کے تابع تھے اور کوئی جدید شریعت نہیں لاتے تھے۔گویا شارع نبی اور رسول کا مبداً تعین (مقام) تشریعی نبوت تھی۔اور