تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 105 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 105

۱۰۵ فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا اور اس کی امت کے لئے قیامت تک مکالمہ مخاطبہ کا دروازہ کبھی پید نہ ہو گا۔اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لئے امتی ہو نا لازمی ہے۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۸،۲۷ طبع اوّل) لہذا قیامت تک یہ بات قائم ہو گی کہ جو شخص بچی پیروی سے اپنا امتی ہونا ثابت نہ کرے اور آپ کی متابعت میں اپنا تمام وجود محو نہ کرے ایسا انسان نہ قیامت تک کوئی کامل وحی پا سکتا ہے نہ کامل ملم ہو سکتا ہے۔کیونکہ مستقل نبوت آنحضرت ﷺ پر ختم ہو گئی ہے۔مگر ظلی نبوت جس کے معنی ہیں کہ محض فیض محمدی سے وحی پان وہ قیامت تک باقی رہے گی تا انسانوں کی تکمیل کا دروازہ پید نہ ہو۔دو (حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۸ طبع اوّل) 1901 ء کے اشتہار ایک غلطی کا ازالہ میں آپ فرماتے ہیں۔چونکہ میں ظلی طور پر محمد ﷺ ہوں پس اس طور سے خاتم النمین کی مبر نہیں ٹوٹی کیونکہ محمد ﷺ کی نبوت محمد ﷺ تک ہی محدود رہی۔یعنی بہر حال محمد ع ہے ہی نبی رہے نہ کوئی اور۔یعنی جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمد ی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کون سا الگ انسان ہو ا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعوی کیا۔" (اشتہار ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۸ طبع اوّل) اس اشتہار کے آخری الفاظ یہ ہیں۔” اب اس تمام تحریر سے مطلب میرا یہ ہے کہ جاہل مخالف میری نسبت الزام لگاتے ہیں کہ یہ شخص نبی یا رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے مجھے ایسا کوئی دعوئی نہیں۔میں اس طور سے جو وہ خیال کرتے ہیں نہ ہی نبی ہوں نہ رسول ہاں اس طور سے