تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ

by Other Authors

Page 46 of 187

تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ — Page 46

ہوتے تھے۔اور ہم لوگوں کے جھگڑ وں کا فیصلہ کیا کرتے اور انہیں ان کے دین میں خفیہ بناتے اور انہیں حلال حرام کے متعلق فتوی دیا کرتے تھے۔بادشاہ اور اس کے سوا سب لوگ ہماری طرف رجوع کرتے تھے۔پس را یک دن، رسول اللہ صلعم کا ذکر چل پڑا۔تو ہم نے کہا۔اس بنی گا تو ہماری کتابوں میں ذکر موجود ہے۔اور اس کا معاملہ اس وقت تک ہم پر مخفی رہا۔اس لئے ہم پر واجب ہے۔کہ ان کی لاش کریں۔اور اس کا پتہ لگائیں۔اور جب ہماری رائے اس امر متفق ہو گئی۔اور ہم سب نے اس پر موافقت کا اظہار کیا۔کہ ہمیں ان سے اس امر کی تلاش میں نکلوں تو میں بہت سا مال لے کر نکلا۔بارہ ماہ چلتا رہا۔یہاں تک کہ میں کابل کے قریب پہونچا۔تو کچھے نہ کہ مجھے ملے۔انہوں نے مجھے پر ڈاکہ ڈالا۔اور میرا مال چھین لیا۔اور مجھے سخت چوٹیں آئیں اور میں شہر کابل میں لے جایا گیا۔اور اس کے بادشاہ نے میرے حالات پر اطلاع پانے کے بعد مجھے شہر لیجے میں پہنچا دیا کے اور اس وقت رنگیں ہلتے دائر دین العباس ابو اسود تھا۔اور ا میری آمد کی خبر ہو پہنچ گئی۔اور یہ کہ میں سندوستان سے تلاش ہیں ہوں۔اور میں نے فارسی نہ بان بھی سیکھ لی۔اور فقہاء اور مشکلمین سے مناظرات کئے۔تو ایک روزہ دائر دین عباس نے مجھے اپنی مٹیکس میں ہلایا۔اور بہت سے فقہار کو جمع کیا۔تو انہوں نے مجھ سے مناظرہ کیا۔تو میں نے ان سے کہا کہ میں اپنے شہر سے اس نبی کی تلاش میں نکلا ہوں جس کا ذکر ہماری کتب میں ہے۔تو اس نے کہا۔وہ کون ہے۔اور اس کا کیا نام ہے۔تو میں نے جواب دیا۔اس کا نام محمد ہے۔اس نے کہا۔وہ