تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ — Page 19
19 ۲۵ - جاشوا ڈیوک صاحب اپنی کتاب راہنما نے کشمیر کے صفری پر لکھتے ہیں کہ کشمیر قدیم زمانے سے ایک خاص شہرت رکھتا ہے بعض رخین نے لکھا کہ آدم بھی اس ملک میں آیا تھا۔اور سلیمان نے یہاں تو جب قائم کی۔مگر بعد میں لوگ بت پرست ہو گئے۔اور صفحہ ۲۲۰ پر لکھا ہے۔کہ کشمیریوں کے چہرے یہودی وضع کے ہیں۔مسز نا ر دے اپنے سیاحت نام کشمیر مطبوعہ لنڈن ء کے جلد ۳ صفحہ ۱۵۴ پر لکھتی ہیں۔کہ ایک فارسی تاریخ کے مطابق جس کا مصنف بدیع الدین ہے۔حضرت موسے کشمیر میں ہی فوت ہوئے اور ان کی قبر اب تک موجود ہے۔رضا اللہ اس لیڈی کو بھی مغالطہ ۲۶ ا لگا۔اور اس نے عیسے کے بجائے موسے سمجھا۔مصنف ) ۲۷۔لیڈی ہنر یٹا سینڈس میرک اپنی کتاب ان دی ورلڈس اٹیک مطبوعہ لنڈن سرا سے وار کے صفحہ ۲۱۳ میں منظر یہ فرماتی ہیں۔کہ علاقہ لیہ لداخ میں افسانہ مسیح جس کو اس ملک میں جیسے کہتے ہیں خامہ ہے اور کہا جاتا ہے۔کہ ہمس کی خانقاہ میں پندرہ سو سال سے پورانی کرتا ہیں ر نہیں موجود ہیں جن میں علینے کے اس ملک میں آنے کا تذکرہ موجود ہے۔ہر ایک گاؤں میں یہ روایت پائی جاتی ہے۔گو الفاظ میں کچھ فرق ہو کہتے ہیں۔کہ خدا نے اپنا بینا زمین پر بھیجا۔اور عجیب بات یہ ہے کہ اس ملک کے بدھ لوگوں کے مذہبی رسوم بالکل وہی ہیں۔جو رومن کیتھولک چرچ کے مذہبی رسومات ہیں۔دیسی ہی تسبیح اور گناہوں کی معافی کی تجاویزہ اور تشکیت اور چراغ اور بتیاں اور بت اور مقدس پانی اور روزے اور مجرد رہنا اور گناہوں کا اقرار