تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ — Page 164
میری پیدائش بمیره ضلع شاہ پور میں ہوئی۔جہاں مفتیوں کے نام چار پانچ گھر ایک ہی محلہ میں اب تک ہیں۔جو مفتیوں کا محلہ کہلاتا ہے۔اور یہ سب گھر ایک ہی مورث اعلیٰ کی اولاد ہیں۔جو شیخ بڈھا کے تھی سے مشہور ہے۔اور جس کا مقبرہ شہر بھیرہ کے شرقی جانب ایک میل کے فاصلہ پر واقعہ ہے۔حضرت والد مرحوم بھیرہ کے ہائی سکول میں لوئر پرائمری کے اول مدرس تھے۔اور مجھے انہوں نے تین جماعتوں کی تعلیم اپنے طور پردی۔جب میں تیسری جماعت پاس کر کے چونتی میں داخل ہوا۔اس وقت بس اپنی جماعت میں سب سے چھوٹی عمر کا لڑکا تھا۔ملیکہ انٹرنس پاس کرنے تک یہی حال رہا۔ابتداء سے لیکر دسویں جماعت تک میں نے بھیرہ میں تعلیم حاصل کی۔اس کے بعد حضرت والد صاحب مرحوم کی وفات کے سبب میں ملازمت کرنے پر مجبور ہوا۔پہلے بھیرہ اسکول میں قریبا چھ ماہ مدرس رہا۔اس کے بعد حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ کی وساطت سے جموں ہائی سکول میں انگلش ٹیچر مقرر ہوا۔اور اسی جگہ پر ائیوں سے امتحان ایف اے پاس کیا۔پانچ سال جموں رہنے کے بعد اسلامیہ مسکول لاہور میں چھے ماہ کے قریب ریاضی کا مدرس رہا جہاں سے اکومنٹ رہا جنرل پنجاب لاہور کے دفتر میں کلرک ہو کر سٹہ تک وہاں رہا۔اور پرائیویٹ تعلیم سے امتحان بی۔اے کی تیاری انگریزی عربی اور عبرانی مضامین میں کر تا رہا۔اور وہاں سے مستعفی ہو کر قادیان ہائی اسکول میں پہلے سیکنڈ ماسٹرا اور پھر بینڈ ماسٹر مڈل۔پھر سیڈ ما سٹریائی مقرر ہوا۔شنلہ میں محمد افضل مرحوم ایڈیٹرا لبدر کی وفات پر اخبار البدر کا ایڈیٹر و مینجر مقرر ہوا جس کام پر سایر تک متعیین رہا۔جبکہ بدریہ سیال پنی "