تحقیق جدید مُتعلق قبر مسیح ؑ — Page 155
10Y سے نکلتا ہے۔یہ ہے کہ حضرت عیسے خود ضرور کہیں اسی طرف تھے۔در نہ کیا وجہ ہے۔کہ تھو نا بھی بھاگے بھاگے سند دستمان آتے ہیں۔اور بار تو لو میں بھی ان کے نقش قدم پر تشریف فرما ہوتے ہیں۔جناب مرقس کو بھی فکر پڑی ہے۔کہ ہندوستان اپنے آدمی بھیجیں ر تو را خود مسیح کی ملاقات۔اور اس طرفت بھیجنے کا ذکر کرتے ہیں گو اس روایت میں کسی کے عام خیال نے خواب کا لفظ بڑھا دیا ہو۔تاہم یہ سب باتیں جب محلہ خانیار کی قبر جیسے اور کشمیر کی پرانی تاریخ اور انجیل فتح برصایب اور مرہم کیئے۔اور نیت سے مکلی ہوئی انیل سے ملا کر دیکھی جاتی ہیں۔تو حضرت جیسے کے ملک ہندوستان کو تشریف لانے کے بیان کی تائید میں ایسے نہایت زیر دست تائیدی گواه ہمارے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔جو ایک منصف کو ضرور اس فیصلہ پر مجبور کرتے ہیں۔کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یقیناً ہندوستان تشریف لائے۔اور قبر سری نگر انہی کی ہے۔ہاں اس میں شک نہیں۔شک انہیں۔کہ حضرت مسیح کے اس سفر کو کھونا پردہ اخطا میں رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔تاکہ حکومت وقت کو یہ نہ معلوم ہو جائے۔کہ جس شخص کے واسطے چھینہ جسٹس نے صلیب کا حکم دیا تھا۔وہ صلیب سے بچکہ ملک سے بھاگ گیا۔اور کسی کو خیر بھی نہ ہوئی۔اگر یہ امر پبلک پر پورے طور پر کھول دیا جاتا۔تو ا دل تو خود حضرت سیئے کو اپنی زندگی کا دوبارہ خطرہ ہو جاتا۔دوم وہ ایماندار جو شام کے ملک 2 میں تھے۔وہ سازشی مجرمانہ اور اعانت جرم کے جرائم میں ماخود ہو کر ہیں دُکھ پاتے۔پس مصلحت یہی تھی کہ اس بات کا کسی سے ذکر نہ کیا جائے