تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 47
{ اب ایسانی نہیں ہوگا جو میری شریعت کے مخالف شریعت پر ہو بلکہ جب کبھی کوئی نبی ہوگا تو وہ میری شریعت کے حکم کے ماتحت ہو گا۔کتاب فصوص الحکم" میں آپ کا واضح ارشاد ہے کہ : ان الله لطيف بعباده فابقى لهم النبوة العامة التي لا تشريع فيها۔ترجمہ: اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان ہے اسی لیے اُس نے اُن کی خاطر غیر تشریعی نبوت عامہ باقی رکھی ہے۔: خليفة الصوفيا شيخ العصر حضرت الشيخ بالی آفندی استونی محی الدین ابن عربی کی تائید میں فرماتے ہیں کہ : ۹۶۰ بھی ی حضرت " خَاتَمِ الرُّسُلِ هُوَ الَّذِى لا يُوجد بَعْدَهُ نبى مُشرع له خاتم الرسل وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی صاحب شریعت جدید و پیدا نہیں ہوگا۔ششم : حضرت امام عبدالوہاب شعرانی ترتیوتی ) ہمیشہ یہ ملک بیان فرماتے رہے کہ : شده فَانَّ مُطلَقَ النبوة لَم يَرْتَفِعُ انما ارتَفَعَ نُبُوةُ التشريع فقط كما يويده حديث من حفظ القرآن فقد ا د رِجَتِ النُّبوة بين جنبيه فقد قامت بهذه النبوة بلا شك وقوله صلى الله عليه وسلم فلا نبى بعدى ولا رسول المراد به لا مشرع تہ۔3:3 بعدی سے ترجمہ : مطلق نبوت نہیں اٹھائی گئی محض تشریعی نبوت ختم ہوئی ہے جس کی تائید شرح فصوص الحکم ص ۱۷۸ حضرت شیخ عبد الرزق تاشانی مطبعہ مصر الحكم" شرح N 1 24 الشيخ بالی مطبوعه بنومره الیواقیت والجواہر جلد ۲ ص ۲۴ فهامی مصر شاه 10+9 ۱۳۲۱