تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 46
بعد کوئی ایسا نبی نہیں جو میری شریعت کو منسوخ کر دینے والا ہو۔سوم : اسی طرح محدث امت حضرت امام محمدطاہر گھبراتی ، دھونی نشہ تحریر فرماتے ہیں کہ * هَذا ايضا لا ينا فى حديث لا نبي بعدى لانه اراد لا نبى ينسَخُ شَرْعَة حضرت عائشہ (وفات نشتہ کا یہ قول حدیث لا نبی بعدی کے منافی نہیں انی ہیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علہ سلم کی مراد یہ ہے کہ الیسانی نہیں ہوگا جو آپ شریعت کو منسوخ کر دے۔چهارم : سپین کے شہرہ آفاق صوفی مفسر اور تکلم حضرت محی الدین ابن عربی رمتونی شسته) فرماتے ہیں کہ : ان النبوة التى انْقَطَعَتْ بُوجود رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم إنما هِىَ نُبولةُ التشريع لا مَقَامُها فَلا شرع يكون ناسخاً لِشَرعِهِ صلى الله عليه وسلم ولا يَزيد فى شرعِهِ حلما أخر۔وهذا معنى قوله صلى الله عليه وسلم إِنَّ الرسالة والنبوة قد انقطعت فَلا رسول بعدِى وَلا نبى اى تد ای لا نبى بعدى يكون على شرع يُخالِفُ شَرعي بل اذا كان يمون تحت حكم شريعتي : ل ز به جو نبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کے آنے سے منقطع : ہوئی ہے وہ صرف تشریعی نبوت ہے نہ کہ مقام نبوت - پی اب کوئی شرع نہ ہوگی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شرع کی ناسخ ہو اور نہ آپ کی شرع میں کوئی نیا حکم بڑھانے والی شروع ہوگی اور سینی معنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے ہیں کہ رسالت اور نبوت منقطع ہو گئی ہے۔پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہو گا نہ کوئی نبی۔مراد آنحضرت کے اس قول سے یہ ہے کہ ه حمله مجمع البحار" ص ۸۵ فتوحات مکیہ جلد نمبر ۲ ص نمبر ۲ دار الكتب العربيه الكبرى مصر