تفہیماتِ ربانیّہ — Page 83
بہر حال اس بہتان کے اثبات کی خاطر مصنف نے دو الہام پیش کئے ہیں (۱) انت منی وانا منک (۲) مظهر الحق والعلاء كأن الله نَزل من الشماء اور ان سے استدلال کیا ہے کہ نعوذ باللہ حضرت مرزا صاحب کو خدا کے باپ ہونے کا دعوی تھا۔افسوس الٹی سمجھ کسی کو بھی ایسی خدا نہ دے دے آدمی کو موت پہ یہ بد ادا نہ دے الهام أنتَ مِني وَأَنَا مِنكَ مصنف نے یہ الہام حقیقۃ الوحی صفحہ ۴۷ کے حوالہ سے نقل کیا ہے اور انا منك“ کا ترجمہ میں تجھ سے ہوں“ کر کے خود ساختہ نتیجہ نکالنا چاہا ہے۔حالانکہ یہ نتیجہ بہر صورت غلط ہے کیونکہ اول تو از روئے عربی زبان اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ جہاں یہ لفظ آجاوے وہاں باپ بیٹے کا ہی تعلق ہو۔مثلاً قرآن مجید میں آتا ہے کہ جب حضرت طالوت ایک لشکر جرار لے کر گئے اور راستہ میں ایک نہر آئی تو انہوں نے فرمایا :- فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِى وَمَنْ لَمْ يَطْعَمُهُ فَإِنَّهُ مِنى - الآية (بقره رکوع ۳۳) کہ ”جو اس نہر سے سیر ہو کر اپنے گا وہ مجھ سے نہیں اور جو نہ پینے گا وہ مجھ سے ہے تو کیا آپ کا مطلب یہ تھا کہ جو پانی پی لے گا وہ میرا بیٹا نہ رہے گا اور جو نہ پئے گا وہ میرا بیٹا بن جائے گا (معاذ اللہ ) ہر گز نہیں۔بلکہ آپ کا مطلب صرف یہ تھا کہ جو لوگ نہر کے ابتلاء میں کامیاب اُتریں گے وہ میرے دوست ، پیارے اور تعلق رکھنے والے ہیں دوسرے نہیں وبس۔چنانچہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے اس آیت کے ترجمہ میں لکھا ہے۔” جو شخص اس نہر سے پئے گا وہ میری جماعت سے نہ ہوگا اور جو نہ پئے گا تو وہ میرا ہمرا ہی ہوگا۔( تفسیر ثنائی جلد ا صفحہ ۱۹۵) نیز علامہ جلال الدین سیوطی بھی لفظ منی کا ترجمہ ای من اتباعی ہی کرتے ہیں۔( جلالین صفحہ ۳۶) اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری جگہ حضرت ابراہیم کا یہ قول بیان فرمایا ہے فَمَن تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مینی (ابراہیم رکوع ۶ ) جو میری تابعداری کرے وہ مجھ سے ہے۔تو کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ میرا بیٹا ہے؟ اور کیا معترض پٹیالوی کی طرح وہاں " شجرہ نسہ “طلب 83