تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 82 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 82

ہے۔اور پھر میں نے کہا کہ آداب انسان کو پیدا کریں۔اس پر نادان مولویوں نے شور مچایا کہ دیکھو اب اس شخص نے خدائی کا دعوی کیا۔حالانکہ اس کشف سے یہ مطلب تھا کہ خدا میرے ہاتھ پر ایک ایسی تبدیلی پیدا کریگا کہ گویا آسمان اور زمین نئے ہو جائیں گے اور حقیقی انسان پیدا ہوں گے۔“ (چشمہ مسیحی حاشیہ صفحہ ۳۵) (ب) خدا نے ارادہ کیا کہ وہ نئی زمین اور نیا آسمان بنادے۔وہ کیا ہے نیا آسمان؟ اور کیا ہے نئی زمین ؟ نئی زمین وہ پاک دل ہیں جن کو خدا اپنے ہاتھ سے تیار کر رہا ہے جو خدا سے ظاہر ہوئے اور خدا ان سے ظاہر ہو گا۔اور نیا آسمان وہ نشان ہیں جو اس کے بندے کے ہاتھ سے اس کے اذن سے ظاہر ہورہے ہیں۔لیکن افسوس کہ دنیا نے خدا کی اس نئی تعلی سے دشمنی کی۔“ ( کشتی نوح صفحہ ۷) پس حضور کا دعویٰ روحانی جماعت پیدا کرنے کا تھا۔سو جماعتِ احمدیہ کی نیکی ، پارسائی اسلام کی خدمات سرفروشانہ خدمات اور روحانی تنظیم صاحب دل انسان کے لئے خضر راہ ہیں۔آپ نے پاکبازوں کا ایک گروہ پیدا کیا جو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔(اللَّهُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنقُصْنَا ) کیا یہ چشم وا کے لئے سامان بصیرت نہیں؟ ”خدا کے باپ ہونے کا دعوی مصنف عشرہ کاملہ نے دسویں نمبر پر جس انتہائی افترا پردازی کا ذکر کیا ہے وہ اس کے الفاظ میں ” خدا کے باپ ہونے کا دعوی ہے۔العیاذ باللہ۔دُنیا میں مخالفت ہوتی ہے، اعتراضات کئے جاتے ہیں، مگر شاید اس سے بڑھ کر بددیانتی ناممکن ہے کہ بلاوجہ کسی کی طرف وہ باتیں منسوب کی جائیں جو اُس کے عقائد میں داخل نہیں۔احمدیت پر اس قسم کے سراسر بے بنیاد اعتراضات صاف ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے مخالفین احمدیت کے اصلی عقائد پر اعتراض کی تاب نہ لا کر خود ایک مفتر یا نہ عقیدہ وضع کرتے ہیں اور پھر اس پر اعتراضات کی بنیادر کھتے ہیں۔حالانکہ خشت اول چون نهد معمار حج تا ثریا ہے 82 331 دیوار سج