تفہیماتِ ربانیّہ — Page 76
وو علیہ السلام نے خود اس کشف کی واضح مرادذ کر فرما دی ہے لیکن معترض نے دانستہ طور پر اس کو چھوڑ دیا۔گویا لا تَقْرَبُوا الصَّلوةَ “ پر ہی عمل پیرا ہونا چاہتے ہیں۔حضور اس کشف کے ذکر کے خاتمہ پر تحریر فرماتے ہیں :- لَا نَعْنِى بِهِذِهِ الْوَاقِعَةِ كَمَا يُغْنَى فِي كُتُبِ أَصْحَابِ وَحْدَةِ الْوُجُودِ وَمَا تَغْنِى بِذَالِكَ مَا هُوَ مَذْهَبُ الْحُلُولِيَّينَ بَلْ هَذِهِ الْوَاقِعَةُ تُوَافِقُ حَدِيثَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْنِي بِذَالِكَ حَدِيثِ الْبُخَارِى فِى بَيَانِ مَرْتَبَةِ قُرُبِ النَّوَافِلِ لِعِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ آئینہ کمالات اسلام صفحه ۵۶۶) ہماری اس کشف سے وہ مراد نہیں جو وحدۃ الوجود والے یا حلول کے قائل مراد لیا کرتے ہیں۔بلکہ یہ کشف تو بخاری کی اس حدیث سے بالکل موافق ہے جس میں نفل پڑھنے والے بندوں کے قرب کا ذکر ہے۔“ پھر اسی کتاب کے صفحہ ۵۶۴ پر تحریر فرمایا ہے :- آغنِى بِعَيْنِ اللهِ رُجُوعَ الظُّلِ إِلَى أَصْلِهِ وَغَيْبُوْبَتَهُ فِيْهِ كَمَا 66 يَجْرِي مِثْلُ هَذِهِ الْحَالَاتِ فِي بَعْضِ الْأَوْقَاتِ عَلَى الْمُحِبّيْنَ “ یعنی عین اللہ سے مراد ظل کا اصل کی طرف جانا اور اس کا اس میں فنا ہو جانا ہے جیسا کہ بعض اوقات ہر عاشق خدا پر یہ حالات گزرتے ہیں۔“ غرض صاحب الہام و کشف کے الفاظ میں یہ واقعہ حدیث بخاری کے ہم معنی ہے اور اس سے حلول یا اتحاد فی الوجود کا نتیجہ نکالناسراسر باطل ہے۔صحیح بخاری کی حدیث قدسی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- مَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ فَإِذَا أحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِئ يَسْمَعُ بِهِ وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا وَرِجُلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا - ( بخاری کتاب الرقاق باب التواضع جلد ۴ صفحه ۹۳ ترجمہ - " نفل گزار بندہ میرے قرب میں ترقی کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اُس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔تب میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ 76