تفہیماتِ ربانیّہ — Page 75
ہرگز نہیں کیونکہ حرمت کا فتویٰ ظاہر پر ہے اور یہ واقعہ خواب کا ہے۔اور کشف کو ظاہر پر محمول کرنا ہرگز درست نہیں۔آنحضرت کی ایک رؤیا جواب دوم - اگر حضرت مرزا صاحب کے محولہ بالا کشف سے حضور پر الزام شرک بلکہ آپ کا دعوی خدائی ثابت ہو جاتا ہے تو پھر اس حدیث کے متعلق ان کا کیا خیال ہے جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :- " رَأَيْتُ رَبِّي فِي صُورَةٍ شَاتٍ أَمْرَ دٍ قَطِطٍ لَهُ وَفْرَةٌ مِنْ شَعْرٍ وَفِي رِجْلَيْهِ نَعْلَانِ مِنْ ذَهَبٍ۔الحدیث (الیواقیت والجواہر جلد اول صفحہ سے بحوالہ طبرانی نیز موضوعات کبیر صفحه ۴۶) ” میں نے اپنے رب کو ایک نوجوان کی شکل پر دیکھا، اس کے لمبے بال اور اس کے پاؤں میں سونے کے جوتے تھے۔“ کیا غیر احمدی اصحاب احمدیت کی مخالفت میں رسول پاک پر بھی الزامِ شرک لگا کر آپ سے روگردان ہو جا ئیں گے؟ ہاں یادر ہے کہ اس حدیث کے متعلق انکار ممکن نہیں کیونکہ ابن صدقہ فرماتے ہیں :- " حديث ابن عباس صَحِيحٌ لَا يُنْكِرُهُ إِلَّا مُعْتَزِ لی“ ( موضوعات ملاعلی قاری صفحه ۴۶) صرف ایک ہی جواب ہے اور وہ یہ کہ یہ واقعہ کشفی ہے۔چنانچہ ملاعلی قاری فرماتے ہیں :۔الحديث انَّ حَمَلَ عَلَى الْمَنَامِ فَلَا أَشْكَالَ فِی الْمَنَام (حوالہ مذکور ) کہ اگر اس حدیث کو خواب پر محمول کیا جاوے تو کوئی اعتراض نہیں۔نیز شیخ محی الدین ابن عربی کا بھی یہی قول ہے۔فرمایا : إِنَّ هَذِهِ الرُّؤْيَةَ كَانَتْ فِي عَالَمِ الْخَيَالِ وَمِنْ شَأْنِ الْخَيَالِ اَنْ يُجَسِدَ مَا لَيْسَ مِنْ شَأنِهِ التَّجَسُّدُ مِنَ الْمَعَانِي الخ“ (اليواقيت جلد اول صفحہ اے ) کہ یہ رویا عالم کشف کا واقعہ ہے اور وہاں غیر مجسم چیز میں تجسم نظر آجایا کرتی ہیں۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کشف بالکل مشابہ ہیں۔فما هو جوابكم فھو جوابنا۔حضرت مسیح موعود کی بیان کردہ تعبیر جواب سوم - حضرت مسیح موعود 75