تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 798 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 798

صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام احادیث نبویہ کے رُو سے (1) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے مسیح موعود کے ذکر میں نَيَكْسِرُ الصليب فرما کر اس حقیقت کو بیان فرما دیا کہ اس زمانہ میں عیسائیت اپنے زوروں پر ہوگی۔خدا کے برگزیدہ کا کام ہوگا کہ دلائل ، براہین، نشانات اور منجزات سے، نہ تیر و تفنگ سے، اس صلیبی مذہب کو پاش پاش کرے۔(۲) وہ امن کا زمانہ ہوگا اور اس کا کام يَضَعُ الْحَرْبَ ہوگا۔دینی جنگوں کا زمانہ نہ ہوگا۔یہ دونوں حدیثیں بخاری شریف میں ہیں۔ان میں مسیح موعود کا زمانہ بعثت اور اس کا کام بتلایا گیا ہے۔یعنی اُسوقت صلیب عروج پر اور عیسائیت اپنے شباب پر ہوگی۔مسیح موعود کسر صلیب کرے گا۔بھائیو! یقینا یہی وہ زمانہ تھا۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کیوں عجب کرتے ہو گر میں آگیا ہو کر مسیح * خود مسیحائی کا دم بھرتی ہے یہ باد بہار (۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں وَلَيُتْرَكَنَّ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا ( مسلم باب نزول عیسی ) کہ مسیح موعود کے زمانہ میں اونٹ چھوڑ دیئے جائیں گے ان سے تیز رفتاری کا کام نہ لیا جائے گا۔اس سے بھی حضرت مسیح موعود کی صداقت ثابت ہے تفصیلی بحث گزرچکی ہے۔(۴) مسیح موعود کا زمانہ معین کرنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت وضاحت کے ساتھ فرما دیا۔الْآيَاتُ بَعْدَ الْمِائَتَيْن (مشکوۃ صفحه اسم مطبوع مجتبائی ) کہ دیگر آیات اور مسیح موعود کے ظہور کا وقت بارھویں صدی کے بعد ہے۔امام ملا علی قاری تحریر فرماتے ہیں۔وَيَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ الْلَام فِي الْمِائَتَيْنِ لِلْعَهْدِ أَى بَعْدَ الْمِائَتَيْنِ بَعْدَ الْأَلْفِ وَهُوَ وَقْتُ ظُهُورِ الْمَهْدِي وَخُرُوجِ الدَّجَالِ وَنُزُولِ عِيسَى عَلَيْهِ الصَّلوةُ وَالسَّلَامُ وَتَتابع الْآيَاتِ مِنْ طُلُوعِ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَ خُرُوجِ دَابَةِ الْأَرْضِ وَظُهُورِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَأَمْثَالِهَا ( مرقاۃ شرح مشکوۃ جلد ۵ صفحه ۱۸۵) ترجمہ - المائتین کا الف لام عہد کا بھی ہو سکتا ہے۔اس صورت میں حدیث کے یہ معنی ہوں گے کہ بارہ سو سال کے بعد یہ نشانات ظہور پذیر ہوں گے اور مہدی کے ظہور، مسیح موعود کے آنے ، دابتہ الارض کے نکلنے اور یا جوج و ماجوج وغیرہ کے خروج کا یہی وقت ہوگا۔گویا تصریح کے ساتھ بتا دیا گیا کہ مسیح موعود بارہویں صدی کے بعد مبعوث ہونے والا ہے۔(۵) حدیث نبوی ہے اِنَّ اللهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِيْنَهَا۔( ابوداؤد جلد ۲ کتاب الفتن ) کہ اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر اس امت کیلئے مجد د مبعوث کیا کریگا جو (798)