تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 792 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 792

اور نبوت غیر تشریعی قرار دیتے ہیں۔(۷) پ۔”اس (مسلمانوں کے عقائد کے خطرہ) کا علاج یہ ہے کہ انہیں ایک ایسا مہدی دے دیا جائے جو جہاد کو حرام قراردے دے اور انگریزوں کی وفاداری کو عین اسلام ثابت کر دے۔انگریزی استعمار کی یہ ضرورت تھی جسے تحریک قادیانیت نے پورا کر دیا۔“ (صفحہ ۸۲۰) - انگریزی استعمار کی یہ ضرورت تو اُن لوگوں کے ذریعہ بہتر صورت میں پوری ہو چکی تھی جو پرویز صاحب کی طرح سرے سے ہی مہدی کے آنے کے انکاری تھے۔گویا انہوں نے انگریز سے کہہ دیا تھا کہ تم بانسری کے بجنے سے خطرہ محسوس کرتے ہو لو ہم اس بانسری کو ہی توڑ دیتے ہیں۔نہ مہدی آئے گا نہ جہاد کا سوال ہوگا۔سوچنے کہ انگریز کو پھر اس حماقت کی کیا ضرورت تھی کہ ایسے شخص کو کھڑا کرتا جو کسر صلیب کے مشن کو لیکر مہدی ومسیح ہونے کا مدعی ہو؟ اے کاش کہ پرویز صاحب کوئی معقول اعتراض کرتے۔(۸) پ۔دیکھئے کہ آپ کو اس عہد کی مجددیت ، مہدویت، مسیحیت اور نبوت سے محکومی ومسکینی کواس عہد اور و نومیدی جاوید کے سوا اور کیا ملا؟ (صفحہ ۸۲۵) ہمیں تو اس مسیحیت سے زندہ ایمان، زندہ عزائم اور زندہ قوت عملیہ ملی ہے۔اسلام کے غلبہ تامہ کے بارے میں یقین حاصل ہوا ہے جس کی بناء پر یہ نھی سی جماعت اپنے تن من دھن کی بازی لگا کر اسلام کے پھیلانے کے لئے ہر قربانی کر رہی ہے اور مشرق و مغرب میں اس کے جاں باز فرزند اس فریضہ کو ادا کر رہے ہیں۔صاف نظر آتا ہے کہ ایک عظیم روحانی انقلاب کے لئے نئی زمین اور نیا آسمان تیار ہو رہا ہے۔اگر اس آفتاب کو اندھی آنکھیں اور قنوطیت زدہ دل نہ دیکھ سکیں تو بع چشمہ آفتاب را چہ گناہ۔بھائیو! پرویز صاحب کا کتنا ظلم ہے کہ وہ اس مقدس انسان کو نومیدی جاوید کا حامل بتلاتے ہیں جس نے اپنی قوم کو زندہ جاوید پیغام دیا ہے کہ :۔” ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہوگی کہ عیسی کا انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نا امید اور بدظن ہو کر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑیں گے اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا۔میں تو ایک تخمریزی کرنے آیا ہوں سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔(تذکرۃ الشہادتین مطبوعہ ۱۹۰۳ء) (792)