تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 754 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 754

مفسرین اور مؤرخین متفق ہیں کہ یہ آیت سنہ پانچ ہجری میں حضرت زید کے حضرت زینب کو طلاق دینے اور پھر حضرت زینب سے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کر لینے کے موقع پر نازل ہوئی تھی۔مودودی صاحب بھی لکھتے ہیں :۔اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اُن کفار و منافقین کے اعتراضات کا جواب دیا ہے جو حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح پر طعن و تشنیع اور بہتان و افتراء کے طوفان اٹھارہے تھے۔ان کا اولین اعتراض یہ تھا کہ آپ نے اپنی بہو سے نکاح کیا ہے حالانکہ آپ کی اپنی شریعت میں بھی بیٹے کی منکوحہ باپ پر حرام ہے۔اس کے جواب میں فرمایا گیا مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ -محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔یعنی جس شخص کی مطلقہ سے نکاح کیا گیا ہے وہ بیٹا تھا کب کہ اُس کی مطلقہ سے نکاح حرام ہوتا؟ تم لوگ تو خود جانتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا سرے سے کوئی بیٹا ہے ہی نہیں۔“ ( ختم نبوت صفحہ ۵-۶) ہمارے نزدیک جناب مودودی صاحب کے بیان کا یہ حصہ بالکل درست ہے۔آیت کے اگلے حصے کے متعلق مودودی صاحب لکھتے ہیں :- و پہلے فقرے کے بعد ولکن (مگر) کے لفظ سے دوسرا فقرہ شروع کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ پہلے فقرے میں مخاطب کی ایک بات کا جواب ہو جانے کے باوجود اس کا ایک سوال یا اعتراض باقی رہ گیا تھا جس کا جواب دوسرے فقرے میں دیا گیا ہے۔‘ ( حاشیہ صفحہ ۷) اس حد تک درست نتیجہ پر پہنچنے کے بعد آگے مودوی صاحب کی ٹھوکر کا باعث یہ ہے کہ انہوں نے باقی رہ جانے والے سوال یا اعتراض“ کو قرآن مجید کی آیات سابقہ کی روشنی میں متعین نہیں کیا اور محض قیاسی ڈھکوسلے سے اگلے حصہ آیت وَلَكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النبین کو اپنے فرضی سوالوں کا جواب قرار دے دیا ہے کہ آخر اس نکاح کا کرنا کیا ضرور تھا اور ایسا نہ کرنے میں کیا قباحت تھی ؟“ (754)