تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 743 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 743

کے لئے حضرت مسیح ناصری علیہ السلام آخری زمانہ میں آسمانوں سے نزول فرما ئیں گے۔دوم جن کا عقیدہ ہے کہ مسیح و مہدی کی آمد کا خیال غیر اسلامی ہے اور یہ مجوسیت سے اسلام میں آیا ہے۔نہ مسیح آسمانوں پر زندہ ہیں اور نہ وہ آئیں گے، یہ محض خیال خام ہے۔یہ دوسرا گروہ علامہ اقبال اور ان کے ہمنوا تعلیم یافتہ لوگوں کا ہے۔منکرین فیضانِ محمد سی میں سے پہلا گر وہ جناب مودودی صاحب اور اُن کے ساتھیوں کا ہے۔جماعت احمد یہ اور بہت سے علما محققین کا اعتقاد یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیضان ہمیشہ جاری ہے اور آپ کی اُمت کے لئے جملہ انعامات الہیہ کا حاصل کرنا ممکن ہے۔جناب مودودی صاحب منکرین فیضانِ محمدی کے جس مکتب فکر کی نمائندگی کے مدعی ہیں اُن میں سے جمہور محققین کو اُن سے سخت اختلاف ہے۔مودودی صاحب نے مارچ ۱۹۷۳ء میں جو رسالہ ختم نبوت“ کے عنوان سے شائع کیا اس میں آپ نے حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو جسمانی طور پر زندہ مانتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہی آخری زمانہ میں جسمانی طور پر نزول فرمائیں گے مگر وہ اپنی اس بعثت میں نبی نہ ہوں گے۔مسیح ابن مریم کی جسمانی آمد کے عقیدہ سے جہاں تعلیم یافتہ مسلمانوں کو تعجب ہو رہا ہے وہاں ان کے مسلوب النبوة ہو کر آنے کے نظریہ کو منت کے اکابر علماء سراسر غلط ٹھہرا رہے ہیں۔مقام تعجب ہے کہ مودودی صاحب حضرت مسیح ایسی معیاری شخصیت کے جو رسُولاً إلى بنى اسرائیل ( آل عمران : ۴۹) کے مصداق ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے کے قائل ہیں مگر امت محمدیہ میں سے کسی معیاری شخصیت کے آنے کے قائل نہیں۔جناب شیخ الاسلام مولاناحسین احمد مدنی لکھتے ہیں :۔" مودودی صاحب تو رسول خدا کے بعد کسی بھی انسان کو معیار حق ماننے کے لئے تیار نہیں لیکن کتاب و سنت کا فیصلہ یہ ہے کہ رسولِ خدا کے بعد قیامت تک معیاری معیاری شخصیتیں آتی رہیں گی۔“ (رساله مودودکی دستور اور عقائد کی حقیقت صفحہ ۲۱) (743)